فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

زمین ٹھیکہ پر لے درخت لگائے تو معاہدہ کی مدت مکمل ہونے پر یہ کس کی ملک ہونگے؟

فتویٰ نمبر 223202610138 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

زمین ٹھیکہ پر لے درخت لگائے تو معاہدہ کی مدت مکمل ہونے پر یہ کس کی ملک ہونگے؟

سوال
میں نے زمین ٹھیکہ پر لی تھی، پھر میں نے اس میں کاشت کے ساتھ ساتھ درخت لگائے ، اب ان کے بیٹے نے معاہد ہ ختم کردیا ہے۔ آیا اب درخت میرے ہیں ؟
جواب
برتقديرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں درخت لگانے والے کے ہیں،البتہ اگر درخت اکھاڑنا زمین کو سخت نقصان پہنچائے تو اکھڑے ہوئے درختوں کی قیمت دے کر مالکِ زمین درختوں مالک بن سکتا ہے۔ لما في الهداية: ويجوز أن يستأجر للساحة ليبني فيها أو ليغرس فيها نخلا أو شجرا ثم إذا انقضت مدة الإجارة لزمه أن يقلع البناء والغرس ويسلمها فارغة إلا أن يختار صاحب الأرض أن يغرم له قيمة ذلك مقلوعا ويتملكه فله ذلك أو يرضى بتركه على حاله فيكون البناء لهذا والأرض لهذا (كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة ومايكون خلافا فيها، 3/ 234 ط: دار احياء التراث العربي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: مزارعت