فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

موذن کا اذان سے پہلے نعت پڑھنا اور اذان کے بعد بیٹھنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610135 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

موذن کا اذان سے پہلے نعت پڑھنا اور اذان کے بعد بیٹھنے کا شرعی حکم

سوال
موذن ہر ہفتے میں تین دن عشاء کی اذان سے پہلے نعت ضرور پڑھتا ہے۔ نیز اذان دینے کے بعد امام کے پیچھے اپنی جگہ پر بیٹھنے کے بجائے پچھلی صفوں میں بیٹھ جاتا ہے اور پھراقامت کے وقت آتا ہے تو اس کی جگہ پر کوئی بیٹھا ہو تو اس کو اٹھنا پڑتا ہے۔ برائے مہربانی مذکورہ دونوں باتوں کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ اذان دینے کے بعد موذن کہا بیٹھے؟
جواب
۱۔ شریعت میں عشاء کی اذان سے پہلے نعت پڑھنا ثابت نہیں ہے، اس لئے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ ۲۔ نمازیوں کو چاہیے کہ وہ موذن کی جگہ کو چھوڑ کربیٹھا کریں ، لیکن اگر کوئی دوسرا آدمی وہاں آکر بیٹھ جاتا ہے تو اس جھگڑے سے بچنے کیلئے موذن کو چاہیے کہ وہ کسی دوسری جگہ پر بیٹھ جایا کرے۔ صحيح ابن حبان: عائشة تقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه1فهو رد" (باب الاعتصام بالسنة، / 208 ط: مؤسسة الرسالة فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز