فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

قبر پر چادر چڑھانے، پھول ڈالنے اور موم بتی جلانے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610133 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

قبر پر چادر چڑھانے، پھول ڈالنے اور موم بتی جلانے کا شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں : ۱۔ قبر پر چادر چڑهانا جائز ہے یا نہیں؟ ۲۔ قبر پر پھول ڈالنا، موم بتی وغیرہ جلانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
قال رسول الله ﷺ:"إن الله عز وجل لم يأمرنا فيما رزقنا أن نكسو الحجارة واللبن" (سنن أبي داود ، كتاب اللباس، باب في الصور، 6/ 231 ت: الأرنؤوط ط: دار الرسالة العالمية) مندرجہ بالا حدیث کی رو سے عام دیواروں پر چادر چڑھانے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے، جبکہ اس صورت میں بظاہر کوئی قباحت اور شرک کا شائبہ نہیں پایا جاتا، جبکہ بزرگوں کی قبر پر چادر چڑھانا ان کی تعظیم کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں غیراللہ کی تعظیم کا شائبہ پایا جاتا ہے تو یہ بطریق ِ اولی ممنوع ہوگا، بخلاف کعبہ پر چادر چڑھانے کے کہ اس پر چادر(غلاف) خود نبی کریم ﷺ نے چڑھایا ہے، نیز کعبہ کی طرف رخ کرکے نمازیں ادا کی جاتی ہیں، جبکہ قبلہ کی جانب سامنے قبر ہو تو ایسے رخ پر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ لما في رد المحتار: وفي القهستاني: لا تكره الصلاة في جهة قبر إلا إذا كان بين يديه؛ بحيث لو صلى صلاة الخاشعين وقع بصره عليه كما في جنائز المضمرات (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، 1/ 654 ط:دارالفكر) ولما فيه أيضاً: في الأحكام عن الحجة: تكره الستور على القبور (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في دفن الميت، 2/ 238 ط:دارالفکر) ۲۔ قبر پر پھول ڈالنایا تو خوبصورتی کیلئے ہوگا یا دیگر اہلِ کتا ب یعنی کافروں کی نقالی کے طور پر ہوگا یا اس لئے ہوگا کہ صاحبِ قبر سے عذاب کی تخفیف ہوسکے، بہر صورت قبر پر پھول ڈالنا جائز نہیں ہے؛ خوبصورتی کے طور پر پھول ڈالنے سے فقہاء کرامؒ نے منع کیا ہے، کافروں کی نقالی سے بھی منع کیاگیاہے، اگر صاحبِ قبر سے تخفیفِ عذاب کی نیت ہوتی تو بزرگوں کی قبر وں پر پھول نہ ڈالے جاتے، حالانکہ عام قبور سےزیادہ ان کی قبروں پر پھول ڈالے جاتے ہیں۔ بہرحال قبروں پر پھول نہیں ڈالنے چاہیے۔ اسی طرح قبر پر موم بتی جلانا یا چراغاں وغیرہ کرنا بھی جائز نہیں؛ اس لئے کہ لوگ اس کو لازم سمجھنے لگے ہیں، جبکہ غیر لازم (مباح) کام کو ثواب سمجھ کر لازماً کرنا یہی بدعت ہے۔ لما في عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ما يفعله أكثر الناس من وضع ما فيه رطوبة من الرياحين والبقول ونحوهما على القبور ليس بشيء (كتاب الوضوء، باب ما جاء في غسل البول، 3/ 121 ط: دار إحياء التراث العربي)  ولما في رد المحتار: بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في الثواب على المصيبة، 2/ 241ط:دارالفکر) ولما في معارف السنن: وقال الراقم: اتفق الخطابی والطرطوشی والقاضی عیاض رحمهم الله تعالى علی المنع، وقولهم أولیٰ بالاتباع حیث أصبح مثل تلک المسامحات والتعللات مثاراً للبدع المنکرۃ والفتن السائرة، فتری العامة یلقون الزهور علی القبور ۔۔۔ يقول (بعض علماء القاهرة) ۔۔۔ يضع الزهور الصناعية التي لا نداوة فيها تقليدا للافرنج و اتباعا لسنن من قبلهم ۔۔۔ كل هذه بدع و منكرات لا اصل لها في الدين ولا مستند لها في الكتاب و السنة (کتاب الطهارة ، باب التشدید فی البول ۱/۲۶۵ ط: سعيد) فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز