کھوجی کتے کی نشاندہی سے جرم ثابت ہونے اور تاوان کا حکم
سوال
ہمارے علاقہ تحصیل درگ، ضلع موسی خیل میں ایک شخص کی جمع شدہ جھاڑیوں کو کسی نے آگ لگا دی،جس سے اس کا بہت نقصان ہوا تو اس نے تونسہ سے ایک کھوجی کتا لایا اور وہ کتا سونگھتے سونگھتے ایک شخص کے گھر داخل ہو کر بیٹھ گیا، جس پر اس نے اس پر الزام لگا دیا کہ اس نے ہماری جھاڑیاں جلائی ہیں، جس سے دونوں برادریوں میں جھگڑا شروع ہوگیا،پھر دونوں کے درمیان فیصلہ یہ طے ہوا کہ ملک الزام علیہ دو لاکھ دے گا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے کھوجی کتے کے کسی کے مکان میں جاکر بیٹھ جانے سے جرم ثابت ہوجاتا ہے یا نہیں؟ نیز مذکورہ صورت میں ملزم پر دو لاکھ ادا کرنے طے پایا ہے، تو شرعاً یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ شریعت نے جرم کے ثابت ہونے کیلئے شہادتِ شرعیہ یا اقرار کو معتبر قرار دیا ہے۔ کھوجی کتا شرعی بینہ میں سے نہیں ہے کہ اس کے ذریعے سے جرم ثابت ہوسکے، زیادہ سے زیادہ اس کی حیثیت قرینے کی ہے۔ جو کہ صرف ابتدائی تحقیقات کیلئے مفید ہوتا ہے یعنی صرف اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ تحقیقات کس شخص سے شروع کی جائیں، لہٰذا اس قرینے کے پائے جانے کی صورت میں تحقیقات کی جائیں پھر اگر اس شخص کے خلاف شہادتِ شرعی بھی قائم ہوجائے یا ملزم خود اقرار کرلے تو اس کا جرم ثابت ہو گا۔ شہادتِ شرعیہ اور اقرار کے بغیر محض کھوجی کتے کی نشاندہی کر دینے سے جرم ثابت نہ ہوگا۔اس لئے صورت ِ مسئولہ میں شخص مذکور کے خلاف تاوان کا فیصلہ کرنا غیر شرعی ہے۔
لما في الهداية:
والشهادة على مراتب : منها الشهادة في الزنا ۔۔۔ ومنها الشهادة ببقية الحدود والقصاص ۔۔۔ وما سوى ذلك من الحقوق يقبل فيها شهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا أو غير مال (كتاب الشهادات، 3/ 116 ط: دار احياء التراث العربي)
ولما في مجلة الأحكام العدلية:
المرء مؤاخذ بإقراره إلا إذا كان إقراره مكذبا شرعا
(المقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، رقم المادة 79، ص: 25 ط: نور محمد)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت