فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ختم خواجگان: روزانہ عصر کے بعد پڑھنا اور اس کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 223202610129 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ختم خواجگان: روزانہ عصر کے بعد پڑھنا اور اس کی شرعی حیثیت

سوال
ہمارے مدرسہ کی مسجد میں عصر کے بعد روزانہ ختم خواجگان ہوتا ہے، جس میں طلباء و اہلِ وعلاقہ شریک ہوتے ہیں، طلباء کیلئے تو بیٹھنا ضروری ہوتا ہے، لیکن اہل علاقہ میں سے جو بیٹھ جائے یا چلا جائے، اس کو اختیار ہوتا ہے، اس پر کوئی نکیر نہیں کرتا۔ ایک صاحب کا کہنا یہ ہے کہ مذکورہ عمل بدعت ہے۔ قران و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس ختم خواجگان کا شرعی حکم کیا ہے؟ جزاکم الله خيرا
جواب
ختم خواجگان مشائخ ؒ کا حصول برکت کیلئے مجرب وظیفہ ہے، اگر کہیں اس کو مستقل معمول بنا کر پڑھا جاتا ہے تو اس کے جواز کی دو شرطیں ہیں: ۱ ) اس کو لازم نہ سمجھیں ۔ ۲ ) نہ پڑھنے والے کو ملامت نہ کی جائے۔ ان دو شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کو دائمی معمول بنانا درست ہے۔(خیرالفتاوی ۲/۲۶۴ ط:امدادیہ) فقط واللہ اعلم
حوالہ: آبق ومفقود