ختم خواجگان: روزانہ عصر کے بعد پڑھنا اور اس کی شرعی حیثیت
سوال
ہمارے مدرسہ کی مسجد میں عصر کے بعد روزانہ ختم خواجگان ہوتا ہے، جس میں طلباء و اہلِ وعلاقہ شریک ہوتے ہیں، طلباء کیلئے تو بیٹھنا ضروری ہوتا ہے، لیکن اہل علاقہ میں سے جو بیٹھ جائے یا چلا جائے، اس کو اختیار ہوتا ہے، اس پر کوئی نکیر نہیں کرتا۔
ایک صاحب کا کہنا یہ ہے کہ مذکورہ عمل بدعت ہے۔ قران و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس ختم خواجگان کا شرعی حکم کیا ہے؟
جزاکم الله خيرا
جواب
ختم خواجگان مشائخ ؒ کا حصول برکت کیلئے مجرب وظیفہ ہے، اگر کہیں اس کو مستقل معمول بنا کر پڑھا جاتا ہے تو اس کے جواز کی دو شرطیں ہیں:
۱ ) اس کو لازم نہ سمجھیں ۔
۲ ) نہ پڑھنے والے کو ملامت نہ کی جائے۔
ان دو شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کو دائمی معمول بنانا درست ہے۔(خیرالفتاوی ۲/۲۶۴ ط:امدادیہ)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: آبق ومفقود