سودی تنخواہ سے بنائے گئے فارم اور باغات سے دودھ و پھل لینا
سوال
۱۔۔۔ ناصر بینک آفیسر ہے، اس نے بینک سے قرضہ لے کر زمین خریدی، پھر اپنی تنخواہ سے (جو اس کو بینک سے ملتی تھی) قرضہ ادا کیا، اور اس زمین میں اس نے گائے فارم بنایا، ملازمین جو اس فارم پر کام کرتے ہیں ، ان کی تنخواہ تقریباً اپنی پنشن میں سے دیتا ہے۔۔تو کیا اس فارم سے دودھ خرید سکتے ہیں یا نہیں؟
۲۔۔۔ اس زمین پر اس نے کھجور، مالٹے اور لیموں کے بہت سے پودے لگا ئے ہیں، تو ان کو کھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟بينوا فتوجروا
وضاحت: زمین پر فارم اور باغات ناصر نے اپنی بینک کی تنخواہ سے بنائے۔
جواب
۱،۲۔۔۔ چونکہ ناصر نے فارم اور باغات اپنی بینک کی تنخواہ سے بنائے ہیں، اور بینک میں سودی معاملہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے ملنے والی تنخواہ حلال نہیں ہوتی، اس لئے اس فارم سے دودھ لینے اور پھل کھانے سے پرہیز کیا جائے تاوقتیکہ فارم اور باغ میں خرچ کردہ رقم کے بقدر مالکوں کو واپس یا صدقہ نہ کی جائے۔
عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»
(صحيح مسلم ، كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، 3/ 1219 ط: دار إحياء التراث العربي)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: اَعیان و منافع کی تقسیم