فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کپڑے پر لگی نجاست کو دھونے کا طریقہ، غسل جنابت کے پانی کے چھینٹوں کا حکم

فتویٰ نمبر 223202610126 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کپڑے پر لگی نجاست کو دھونے کا طریقہ، غسل جنابت کے پانی کے چھینٹوں کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں: ۱۔ اگر کپڑے وغیرہ کو پیشاب لگنے سے تین مرتبہ نچوڑ کر دھونا ضروری ہےیا نہیں؟ آیا تین مرتبہ سے کم دھونا کفایت کر جائے گا یا نہیں؟ آیا تین کا عدد شرط ہے یا نہیں؟ ۲۔ اگر جنبی آدمی استجاء کرنے اور جسم پر لگی نجاست کو دھو لینے کے بعد بالٹی یا ٹب وغیرہ سے پانی جسم پر غسل کرنے کیلئے ڈالتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کی چھنٹے بالٹی یا ٹب میں پڑتے ہیں، آیا وہ ٹب یا بالٹی والا پانی غسل کیلئے کفایت کر جائے گا یا نہیں؟
جواب
۱۔ اگر نجاست جامد و مرئی (جو کپڑے میں جذب نہیں ہوتی)ہے تو اس عین کو زائل(دور کردینے) سے کپڑا پاک شمار ہوگا چاہے ایک ہی بار میں عین زائل ہوجائے، البتہ عین زائل (دور) ہوجانے کے بعد اس کا اثر(نشان) باقی رہ جانا پاکی حاصل ہونے میں مانع نہیں۔ اور اگر نجاست مائع(بہنے والی) اور غیر مرئی(جو کپڑے میں جذب ہوجائےاور دکھائی نہ دے) تو اسکو تین بار اس طرح دھونا کہ ہر بار اتنا نچوڑا جائے کہ قطرے گرنا بند ہوجائیں، ضروری ہے، یا اس قدر پانی بہانے سے بھی استحساناً کپڑا پاک ہوجاتا ہے کہ جس سےنجاست کے بالکلیہ بہہ جانے کا یقین ہوجائے۔ المبسوط للسرخسي: ثم النجاسة على نوعين: مرئية وغير مرئية، ثم المرئية لا بد من إزالة العين بالغسل، وبقاء الأثر بعد زوال العين لا يضر۔۔۔ فأما النجاسة التي هي غير مرئية فإنها تغسل ثلاثا (كتاب الطهارة، باب البئر، 1/ 93 ط: دار المعرفة) الدر المختار: (يجوز رفع نجاسة حقيقية عن محلها) ۔۔۔ (وإلا) جرم لها كبول (فيغسل۔۔۔ قال ابن عابدينؒ في رد المحتار: (قوله: وإلا جرم لها) أي: وإن كانت النجاسة المفهومة من المقام لا جرم لها. (قوله: فيغسل) أي: الخف. قال في الذخيرة: والمختار أن يغسل ثلاث مرات ويترك في كل مرة حتى ينقطع التقاطر وتذهب النداوة (الدر مع الرد، كتاب الطهارة، باب الأنجاس، 1/ 309 ط: سعيد) الفتاوى الهندية: إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد. كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها ولو لم تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول، كذا في السراجية۔۔۔ وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات (كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة، الفصل الأول في تطهير الأنجاس، 1/ 41 ط: دار الفكر) ۲۔ نجاست دور کرلینے کے بعد غسل کے وقت جنبی آدمی کے جسم سے تهوڑے بہت قطرات کابالٹی یا ٹب وغیرہ میں گرنے سے بالٹی و ٹب میں موجود پانی پاک ہی رہتا ہے اور اس سے بقیہ غسل کرنا درست ہوتا ہے۔ المبسوط للسرخسي: (جنب) اغتسل فانتضح من غسله في إنائه لم يفسد عليه الماء لقول ابن عباس - رضي الله تعالى عنهما - ومن يملك سيل الماء. ولما سئل الحسن عن هذا فقال إنا لنرجو من رحمة الله ما هو أوسع من هذا، أشار إلى أن ما لا يستطاع الامتناع منه يكون عفوا فإن كان ذلك الماء يسيل في إنائه لم يجز الاغتسال بذلك الماء يريد به أن الكثير يمكن التحرز عنه فلا يجعل عفوا، والحد الفاصل بين القليل، والكثير إن كان يستبين مواقع القطر في الإناء يكون كثيرا. (باب الوضوء والغسل، 1/ 46 ط: دارالمعرفة) الأصل المعروف بالمبسوط للشيباني: قلت أرأيت جنبا اغتسل فانتضح من غسله شيء في إنائه هل يفسد عليه ذلك الماء قال لا قلت لم قال لأن هذا مما لا يستطاع الامتناع منه قلت أرأيت إن أفاض الماء على رأسه أو على سائر جسده أو غسل فرجه فجعل ذلك الماء كله يقطر في الإناء قال هذا يفسد الماء ولا يجزيه أن يتوضأ بذلك الماء ولا يغتسل به (باب الوضوء والغسل من الجنابة، 1/ 24 ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية) المحيط البرهاني في الفقه النعماني: الجنب إذا اغتسل وانتضح من غسالته في إنائه أو على ثوبه قطرات صفار لا يستبين أثرها في الماء ولا في الثوب لا ينجسها، وإن استبان أثرها وهي ما إذا جمعت كانت أكثر من قدر الدرهم نجسته، هكذا روى الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله.وسئل أبو سليمان عن ماء الجنابة إذا وقع في الإناء وقوعاً يستبين أنها ليست بشيء، ومعنى قوله يستبين: أن ينفرج وجه ماء الإناء عند وقوع القطرات أو يرى عين القطرات ظاهرة.وذكر هذه المسألة في «المبسوط» وقال: إن كان الواقع قليلاً لا يفسد الماء وإن كان كثيراً يفسده، تكلموا في حد القليل والكثير: روي عن محمد رحمه الله أنه قال: إن كان مثل رؤوس الإبر وأطراف الإبر فهو قليل، وإن زاد على ذلك فهو كثير.وذكر الكرخي في «كتابه» : أنه إن كان مواقع القطر يستبين في الإناء فهو كثير يفسد الماء وإن كان لا يستبين فهو قليل لا يفسد الماء. (كتاب الطهارات، الفصل الرابع في المياه التي يجوز التوضؤ بها والتي لا يجوز التوضؤ بها، 1/ 112 ط: دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: طہارت