حلف، جھوٹ اور نیک نیتی میں شرعی حدود
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں:
۱۔ کیا پانچ بھائی آپس میں اتحاد و اتفاق سے اور ہر شرعی وجائز کام میں ایک دوسرے سے تعاون کا حلف لے سکتے ہیں؟
۲۔ کیا کسی کو نیک بنانے کیلئے یا والد کو نیک ظاہر کرنے کیلئے جھوٹ بولا جاسکتا ہے، جبکہ اس جھوٹ سے کسی کا کوئی نقصان نہ ہو؟
۳۔ کیا کوئی آدمی اپنی عزت بچانے کیلئے کسی گناہ کے ارتکاب نہ کرنے پرجھوٹی قسم کھا سکتا ہے، جبکہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہو؟جزاكم الله خيراً
جواب
۱۔ شرعاً اس طرح کا حلف لینا لازم تو نہیں ہے،تاہم منع بھی نہیں ہے، البتہ حلف اٹھانے کے بعد حلف کی خلاف ورزی کی صورت میں قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
لما في الدر المختار:
(و) ثالثها (منعقدة وهي حلفه على) مستقبل (آت) يمكنه۔۔۔ (و) هذا القسم (فيه الكفارة)
(الدر مع الرد، كتاب الأيمان، 3/ 708 ط: دارالفكر)
۲،۳۔ ان مواضع میں جھوٹ بولنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے،اور ان مواضع میں جھوٹ بولنا حرام ہے۔
عن أنس، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكبائر، فقال: «الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، وشهادة الزور» أو «قول الزور» (مسند أبي داود الطيالسي،رقم الحديث: 2188 ، 3/ 549 ط: دار هجر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: حدود