فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

حلف، جھوٹ اور نیک نیتی میں شرعی حدود

فتویٰ نمبر 223202610122 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

حلف، جھوٹ اور نیک نیتی میں شرعی حدود

سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں: ۱۔ کیا پانچ بھائی آپس میں اتحاد و اتفاق سے اور ہر شرعی وجائز کام میں ایک دوسرے سے تعاون کا حلف لے سکتے ہیں؟ ۲۔ کیا کسی کو نیک بنانے کیلئے یا والد کو نیک ظاہر کرنے کیلئے جھوٹ بولا جاسکتا ہے، جبکہ اس جھوٹ سے کسی کا کوئی نقصان نہ ہو؟ ۳۔ کیا کوئی آدمی اپنی عزت بچانے کیلئے کسی گناہ کے ارتکاب نہ کرنے پرجھوٹی قسم کھا سکتا ہے، جبکہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہو؟جزاكم الله خيراً
جواب
۱۔ شرعاً اس طرح کا حلف لینا لازم تو نہیں ہے،تاہم منع بھی نہیں ہے، البتہ حلف اٹھانے کے بعد حلف کی خلاف ورزی کی صورت میں قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔ لما في الدر المختار: (و) ثالثها (منعقدة وهي حلفه على) مستقبل (آت) يمكنه۔۔۔ (و) هذا القسم (فيه الكفارة) (الدر مع الرد، كتاب الأيمان، 3/ 708 ط: دارالفكر) ۲،۳۔ ان مواضع میں جھوٹ بولنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے،اور ان مواضع میں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ عن أنس، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكبائر، فقال: «الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، وشهادة الزور» أو «قول الزور» (مسند أبي داود الطيالسي،رقم الحديث: 2188 ، 3/ 549 ط: دار هجر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: حدود