رقم ادھار کے بدلے غیر متعین گندم کی ادائیگی اور بیع سلم کا شرعی حکم
سوال
ایک بندہ منڈی والے سے رقم ادھار لیتا ہے کہ جب گندم وغیرہ کی کٹائی ہوگی تو تمہیں رقم لوٹا دونگا یا اس کے بدلے میں گندم دونگا۔۔۔۔ آیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں ذکر کیا گیا معاملہ بیع سلم کہلاتا پے اور یہ درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:
۱۔ جنس متعین کی جائےکہ کون سی جنسی خرید کی جارہی ہے۔
۲۔ نوع متعین کی جائے کہ گندم کس زمین اور علاقے کی ہوگی، بارانی ہوگی یا غیر بارانی۔
۳۔ صفت متعین کی جائے کہ عمدہ ہوگی یا گھٹیا۔
۴۔ مقدار متعین کی جائے کہ مثلاً پچاس ہزار لے رہا ہوں تواس پچاس ہزار کے بدلے کتنی گندم کا سودا کیا گیا ہے۔
۵۔ رأس المال یعنی گندم کے بدلے میں جو رقم دی جا رہی ہے، اس کی مقدار کا متعین کرنا ضروری ہے، مثلاً پچاس ہزار کے بدلے میں گندم لے رہا ہوں اور مجلسِ عقد(معاملہ کی مجلس) میں ہی رقم دوسرے فریق کے سپرد کر دی جائے۔
۶۔ گندم ادا کرنے کی تاریخ مقرر کی جائے۔
۷۔ گندم ادا کرنے کی جگہ بھی طے کرلی جائے۔
۸۔ رقم کے بدلے میں جس چیز کو ادا کرنا طے پایا گیا ہے،مثلاً گندم تو اس کا ادا کر دینے کے وقت تک مارکیٹ یا علاقہ میں کہیں نہ کہیں دستیاب ہونا ضروری ہے۔
اگر مذکورہ آٹھ شرائط میں سے ایک بھی شرط نہ پائی گئی تو مذکورہ معاملہ کرنا شرعاً درست نہ ہوگا۔
لما فی الدر المختار:
(وشرطه) أي شروط صحته التي تذكر في العقد سبعة (بيان جنس) كبر أو تمر (و) بيان (نوع) كمسقي أو بعلي (وصفة) كجيد أو رديء (وقدر) ككذا كيلا لا ينقبض و لاينبسط (وأجل۔۔۔ (و) بيان (قدر رأس المال) إن تعلق العقد بمقداره۔۔۔ (و) السابع
بيان (مكان الإيفاء) للمسلم فيه (فيما له حمل) أو مؤنة
(الدر مع الرد، کتاب البیوع، باب السلم، 5/ 214،215 ط:دارالفکر)
ولما فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
لا يجوز السلم في الشيء المنقطع لفوت شرطه وهو أن يكون موجودا من حين العقد إلى حين المحل بكسر الحاء مصدر ميمي من الحلول حتى لو كان منقطعا عند العقد موجودا عند المحل أو بالعكس أو منقطعا فيما بين ذلك لم يجز
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، کتاب البیوع، باب السلم، 6/ 172 ط: دار الكتاب الإسلامي)
صورت مسئولہ میں فریقین نے جو معاملہ کیا ہےاس میں مدت بھی مجہول ہے کیونہ گندم کی کٹائی تو کئی دن چلتی رہتی ہے باقاعدہ تاریخ اور دن کے لحاظ سے وقت مقرر کرنا ضروری ہے ، نیز رقم کے بدلے میں گندم کی مقدار بھی معلوم نہیں کہ کتنی گندم دی جائے گی۔دیگر شرائط بھی مفقود ہیں۔ لہٰذا یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہوا۔
فریقین اگر چاھیں تو بیع سلم کی شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے از سرِ نو عقد کریں۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال