فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

رقم ادھار کے بدلے غیر متعین گندم کی ادائیگی اور بیع سلم کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610119 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

رقم ادھار کے بدلے غیر متعین گندم کی ادائیگی اور بیع سلم کا شرعی حکم

سوال
ایک بندہ منڈی والے سے رقم ادھار لیتا ہے کہ جب گندم وغیرہ کی کٹائی ہوگی تو تمہیں رقم لوٹا دونگا یا اس کے بدلے میں گندم دونگا۔۔۔۔ آیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں ذکر کیا گیا معاملہ  بیع سلم کہلاتا پے اور یہ درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے: ۱۔ جنس متعین کی جائےکہ کون سی جنسی خرید کی جارہی ہے۔  ۲۔ نوع متعین کی جائے کہ گندم کس زمین اور علاقے کی ہوگی، بارانی ہوگی یا غیر بارانی۔ ۳۔ صفت متعین کی جائے کہ عمدہ ہوگی یا گھٹیا۔ ۴۔ مقدار متعین کی جائے کہ مثلاً پچاس ہزار لے رہا ہوں تواس پچاس ہزار کے بدلے کتنی گندم کا سودا کیا گیا ہے۔ ۵۔ رأس المال یعنی گندم کے بدلے میں جو رقم دی جا رہی ہے، اس کی مقدار کا متعین کرنا ضروری ہے، مثلاً پچاس ہزار کے بدلے میں گندم لے رہا ہوں اور مجلسِ عقد(معاملہ کی مجلس) میں ہی رقم دوسرے فریق کے سپرد کر دی جائے۔ ۶۔ گندم ادا کرنے کی تاریخ مقرر کی جائے۔ ۷۔ گندم ادا کرنے کی جگہ بھی طے کرلی جائے۔ ۸۔ رقم کے بدلے میں جس چیز کو ادا کرنا طے پایا گیا ہے،مثلاً گندم تو اس کا ادا کر دینے کے وقت تک مارکیٹ یا علاقہ میں کہیں نہ کہیں دستیاب ہونا ضروری ہے۔ اگر مذکورہ آٹھ شرائط میں سے ایک بھی شرط نہ پائی گئی تو مذکورہ معاملہ کرنا شرعاً درست نہ ہوگا۔   لما فی الدر المختار: (وشرطه) أي شروط صحته التي تذكر في العقد سبعة (بيان جنس) كبر أو تمر (و) بيان (نوع) كمسقي أو بعلي (وصفة) كجيد أو رديء (وقدر) ككذا كيلا لا ينقبض و لاينبسط (وأجل۔۔۔ (و) بيان (قدر رأس المال) إن تعلق العقد بمقداره۔۔۔ (و) السابع بيان (مكان الإيفاء) للمسلم فيه (فيما له حمل) أو مؤنة (الدر مع الرد، کتاب البیوع، باب السلم، 5/ 214،215 ط:دارالفکر) ولما فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: لا يجوز السلم في الشيء المنقطع لفوت شرطه وهو أن يكون موجودا من حين العقد إلى حين المحل بكسر الحاء مصدر ميمي من الحلول حتى لو كان منقطعا عند العقد موجودا عند المحل أو بالعكس أو منقطعا فيما بين ذلك لم يجز (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، کتاب البیوع، باب السلم، 6/ 172 ط: دار الكتاب الإسلامي) صورت مسئولہ میں فریقین نے جو معاملہ کیا ہےاس میں  مدت بھی  مجہول ہے کیونہ  گندم کی کٹائی تو کئی دن چلتی رہتی ہے باقاعدہ تاریخ اور دن کے لحاظ سے وقت مقرر کرنا ضروری ہے ، نیز رقم کے بدلے میں گندم کی مقدار بھی  معلوم نہیں کہ کتنی گندم دی جائے گی۔دیگر شرائط بھی مفقود ہیں۔ لہٰذا یہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہوا۔  فریقین اگر چاھیں تو بیع سلم کی شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے از سرِ نو عقد کریں۔  فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال