فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

منزلہ مسجد میں اوپر کی منزل میں نماز: شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610115 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

منزلہ مسجد میں اوپر کی منزل میں نماز: شرعی حکم

سوال
ہماری مسجددو منزلہ ہے، ایک گراؤنڈ فلور، دوسری اوپر کی منزل، اور ہم نماز اوپر کی منزل میں ادا کرتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ گراؤنڈ فلور کو چھوڑ کر اوپر کی منزل میں نماز ادا کرنا بلا کراہت جائز ہے یانہیں؟ جبکہ میں نے سنا ہے کہ نیچے کی منزل کو چھوڑ کر اوپر چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
جواب
یہاں دو مسئلے ہیں، نمبر۱ یہ ہےکہ مسجد کی چھت پر نماز باجماعت اس طور پر ادا کرنا کہ نیچے کی داخلی مسجدخالی ہو، یہ صورت بلا شبہ مکروہ ہے۔البتہ اگر نیچے داخلی مسجد بھر جائے ، اس کے بعد باقی مقتدی چھت پر امام کی اقتداء میں نماز ادا کریں تو اس کی اجازت ہے۔ لما في الهندية: الصعود على سطح كل مسجد مكروه، ولهذا إذا اشتد الحر يكره أن يصلوا بالجماعة فوقه إلا إذا ضاق المسجد فحينئذ لا يكره الصعود على سطحه للضرورة، كذا في الغرائب. (كتاب الصلاة، ٥/٣٢٢ ط:دارالفكر) ولما في المحيط البرهاني: الصلاة على الرفوف في المسجد الجامع من غير ضرورة مكروه وعند الضرورة بأن امتلأ المسجد، ولم يجد موضعاً يصلي فيه فلا بأس به (كتاب الصلاة، ١/٣٨١ ط:داراحياء التراث العربي) ولما في الدر المحتار: (و)كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط). وفي رد المحتار تحته: (قوله الوطء فوقه) أي الجماع خزائن؛ أما الوطء فوقه بالقدم فغير مكروه إلا في الكعبة لغير عذر، لقولهم بكراهة الصلاة فوقها. ثم رأيت القهستاني نقل عن المفيد كراهة الصعود على سطح المسجد اهـ ويلزمه كراهة الصلاة أيضا فوقه فليتأمل. (الدر مع الرد، كتاب الصلاة، ١/٦٥٦ ط:دارالفكر) ولما في المحيط البرهاني في الفقه النعماني لو صلى على سطح المسجد مقتدياً بإمام في المسجد تجوز صلاته (كتاب الصلاة، قبيل الفصل السابع عشر، 1/ 418، المحقق: عبد الكريم سامي الجندي، الناشر: دار الكتب العلمية) نمبر۲ یہ ہے کہ دو منزلہ مسجد کی صرف دوسری منزل میں نماز باجماعت ادا کرنا، تو یہ صورت بلا کراہت جائز ہے؛ کیونکہ دوسری منزل پر نماز پڑھنا ، یہ چھت پر نماز پڑھنا نہیں ہے۔ مسجد کی چھت وہ ہوگی جو دوسری منزل کی چھت ہے۔ لما في امداد الاحكام: ولان المنزلة الثانية ليس في حكم السقف بالكلية بل له حكم المسجد، والسقف ما كان فوق المنزلة الثانية (كتاب الصلاة، 1/559 ط:دارالعلوم) فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز