کولڈ سٹور میں انڈے رکھنے اور فروخت پر شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید مرغی کے انڈوں کا کاروبار کرتا ہے، ماہ اگست و ستمبر جبکہ انڈوں کا ریٹ مارکیٹ میں نسبتاً کم ہوتا ہے، زید انڈے خرید کر کولڈ سٹور میں بکر کے پاس رکھوا دیتا ہے، جس پر بکر اس سے کرایہ وصول کرتا ہے۔
تقریباً تین یا چار ماہ بعد انڈے سٹور سے نکال کر چیک کرکے فروخت کرتا ہے، اور بکر کو کل کرایہ کی ادائیگی کردیتا ہے، کبھی کبھار انڈے خراب بھی ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے زید کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
۱۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کا منافع پر یہ کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟
۲۔ بکر کیلئے کرایہ وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟بينوا فتوجروا
جواب
۱۔ زید کا مارکیٹ سے آف سیزن میں سستے داموں انڈے خرید کر کولڈ سٹور میں محفوظ کرلینا اور کچھ عرصے بعد مہنگے داموں فروخت کرناشرعاً جائز ہے، بشرطیکہ انڈے بازار میں شاٹ نہ ہوں جو شہریوں کیلئے تکلیف کا موجب بنے۔بشرطیکہ چالیس دن سے زائد سٹور نہ کرے۔
لما في الهداية:
قال: "ويكره الاحتكار في أقوات الآدميين والبهائم إذا كان ذلك في بلد يضر الاحتكار بأهله وكذلك التلقي. فأما إذا كان لا يضر فلا بأس به" والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام: "الجالب مرزوق والمحتكر ملعون"
(كتاب الكراهية، فصل: في البيع، 4/ 377 ط: دار احياء التراث العربي)
۲۔ بکر کا کولڈ سٹور میں انڈے رکھنے پر کرایہ لینا شرعاً جائز ہے اور اس پر امت کا تعامل ہے۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال