غیر تقسیم شدہ زمین میں ایک شریک کا دوسرے کی اجازت کے بغیر اپنی زمین اجنبی کو فروخت کرنے کا حکم اور دوسرے کا چار سال بعد علم ہونے پر شفعہ کرنے کا حکم
سوال
غیر تقسیم شدہ پدری زمین میں ایک شریک دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر تقسیم سے قبل اپنا حصہ کسی اجنبی کو فروخت کر سکتا؟
نیز دوسرے شریک کو چار سال بعد اطلاع ملی اور اس نے شفعہ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے شفعہ کر دیا تو آیا زمین پر شفعہ کرنا درست ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر تقسیم سے قبل ایک وارث نے فقط اپنے حصے کےبقدر زمین فروخت کی ہےتو یہ جائز ہے،
فتاوی شامی میں ہے:
"(وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه)؛ لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن".
وفی الرد: "فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي" .
(ج:۴،ص:۳۰۰، کتاب الشرکۃ، ط؛ سعید)
2۔اگر واقعی دوسرے فریق نے چار سال کے بعد معلوم ہونے کے فوراً بعد شفعہ کا دعویٰ کردیا تو اس کا شفعہ ثابت ہو جائے گا اور جتنی قیمت پر فریق اول نے وہ زمین چار سال پہلے فروخت کی تھی اسی کے ساتھ شفیع کو ملے گی۔
فقط واللہ اعلم
حوالہ: بیوع