فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

غیر تقسیم شدہ زمین میں ایک شریک کا دوسرے کی اجازت کے بغیر اپنی زمین اجنبی کو فروخت کرنے کا حکم اور دوسرے کا چار سال بعد علم ہونے پر شفعہ کرنے کا حکم

فتویٰ نمبر 223202610110 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

غیر تقسیم شدہ زمین میں ایک شریک کا دوسرے کی اجازت کے بغیر اپنی زمین اجنبی کو فروخت کرنے کا حکم اور دوسرے کا چار سال بعد علم ہونے پر شفعہ کرنے کا حکم

سوال
غیر تقسیم شدہ پدری زمین میں ایک شریک دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر تقسیم سے قبل اپنا حصہ کسی اجنبی کو فروخت کر سکتا؟ نیز دوسرے شریک کو چار سال بعد اطلاع ملی اور اس نے شفعہ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے شفعہ کر دیا تو آیا زمین پر شفعہ کرنا درست ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر تقسیم سے قبل ایک وارث نے فقط اپنے حصے کےبقدر زمین فروخت کی ہےتو یہ جائز ہے، فتاوی شامی میں ہے: "(وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه)؛ لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن".   وفی الرد: "فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي" . (ج:۴،ص:۳۰۰، کتاب الشرکۃ، ط؛ سعید) 2۔اگر واقعی دوسرے فریق نے چار سال کے بعد معلوم ہونے کے فوراً بعد شفعہ کا دعویٰ کردیا تو اس کا شفعہ ثابت ہو جائے گا اور جتنی قیمت پر فریق اول نے وہ زمین چار سال پہلے فروخت کی تھی اسی کے ساتھ شفیع کو ملے گی۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: بیوع