فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

اسٹیٹ لائف انشورنس سے زندگی کا بیمہ کرانے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 223202610108 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

اسٹیٹ لائف انشورنس سے زندگی کا بیمہ کرانے کا شرعی حکم

سوال
زندگی کا بیمہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان سے کرانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
بیمہ پالیسی کرانا خواہ اسٹیٹ لائف انشورنس سے کرائی جائے یا کسی دوسرے سودی ادارہ سے ، ناجائز ہے اور بیمہ کرانے کی صورت میں جمع کرائی گئی رقم سے زائد ملنے والی رقم حرام ہے ، کیونکہ بیمہ پالیسی میں ربا (سود) ، غرر(دھوکہ) اور قمار(جوا) پایا جاتا ہے ؛کیونکہ ہم نے ان سے شراکت یا مضاربت کا عقد کیا ہی نہیں،بوجہ شرائط شراکت و مضاربت کے طے نہ کرنے کے ، اس لئے ملنے والی زائد رقم سود ہے، نیز حادثہ ہوجانے کی صورت میں مکمل قسطیں جمع کرانے کی نوبت ہی نہ آئے اور زائد رقم مل جائے ،اور شاید حادثہ پیش نہ آئے، تو یہی قمار ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کرانا شرعاً ناجائز ہے۔ قال الله تعالي: {وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة : 188] تفسير القرطبي میں ہے: الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم، والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كمهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك. ... من أخذ مال غيره لا على وجه إذن الشرع فقد أكله بالباطل، ومن الأكل بالباطل أن يقتضى القاضي لك وأنت تعلم أنك مبطل، فالحرام لا يصير حلالا بقضاء القاضي، لأنه إنما يقضي بالظاهر. وهذا إجماع في الأموال . (الجامع لأحكام القرآن المعروف ب"تفسير القرطبي" لابي عبد الله محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فرح الأنصاري الخزرجي شمس الدين القرطبي (المتوفى: 671هـ)، 2 / 338 تحقيق: أحمد البردوني وإبراهيم أطفيش، الناشر: دار الكتب المصرية – القاهرة) حدیث شریف میں ہے: حدثنا حجاج، أخبرنا شريك، عن سماك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لعن الله آكل الربا، وموكله، وشاهديه، وكاتبه " (مسند أحمد ، مسند المكثرين من الصحابة، مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه، رقم الحديث3809، 6/ 358، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، الناشر: مؤسسة الرسالة) فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت