فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

گندم کی خرید و فروخت میں آڑھتی کا صفائی کی مد میں دو کلو کاٹ کاٹنے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 220202610107 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

گندم کی خرید و فروخت میں آڑھتی کا صفائی کی مد میں دو کلو کاٹ کاٹنے کا شرعی حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: آڑھتی گندم خریدتے وقت کاشتکار سے دو کلو گندم صفائی کی مد میں کاٹ لیتا ہے حالانکہ بعض اوقات گندم صاف اور معیاری ہوتی ہے، اور بعض صورتوں میں غیر صاف یا غیر معیاری ہوتی ہے؟ اسی طرح بعض آڑھتی دوسرے شہروں سے آنے والوں سے ایک کلو سے زائد گندم بطور کٹوتی لے لیتے ہیں، تو: 1. کیا صاف اور معیاری گندم کی صورت میں اس طرح رقم کاٹنا شرعاً جائز ہے؟ 2. غیر معیاری گندم کی صورت میں شرعی طریقہ کیا ہوگا؟ 3. بوری (تھیلے) کے وزن کی کٹوتی کس طرح درست ہو سکتی ہے؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہی اصولوں کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
جواب
اگر گندم صاف اور معياری ہے تو پھر آڑھتی کا دو کلوگندم کے پیسے کاٹنا درست نہیں، اس صورت میں معاملہ ناجائز ہو جاتا ہے البتہ اس کا جواز کہ یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ صرف بوری کے وزن کے بقدر گندم زیادہ لے لے یا اس کے بقدر رقم کم دے۔ اور اگر گندم صاف اور معیاری نہیں ہے تو پھر گندم کا ریٹ معیاری گندم سے کم طے کرکے معاملہ کیا جائے، اس صورت میں بھی متعین دو کلو گندم کے پیسے کم دینا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح آڑھتی سے دوسرے شہر والوں کا ایک کلو سے زائد گندم کاٹنا شرعاً درست نہیں ہے، بلکہ وہ مذکورہ بالاتفصیل کے مطابق معاملہ کریں۔ لما في تبيين الحقائق: لا يجوز بيع زيت كل رطل بدرهم على أن يزنه بظرفه ويطرح عن الزيت الموزون مكان كل ظرف خمسين رطلا ويجوز إن شرط أن يطرح بوزن الظرف (البيين مع حاشية الشلبي، كتاب البيوع، 4/ 56 ط: المطبعة الكبرى الأميرية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال