گندم کی خرید و فروخت میں آڑھتی کا صفائی کی مد میں دو کلو کاٹ کاٹنے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
آڑھتی گندم خریدتے وقت کاشتکار سے دو کلو گندم صفائی کی مد میں کاٹ لیتا ہے حالانکہ بعض اوقات گندم صاف اور معیاری ہوتی ہے، اور بعض صورتوں میں غیر صاف یا غیر معیاری ہوتی ہے؟
اسی طرح بعض آڑھتی دوسرے شہروں سے آنے والوں سے ایک کلو سے زائد گندم بطور کٹوتی لے لیتے ہیں، تو:
1.
کیا صاف اور معیاری گندم کی صورت میں اس طرح رقم کاٹنا شرعاً جائز ہے؟
2.
غیر معیاری گندم کی صورت میں شرعی طریقہ کیا ہوگا؟
3.
بوری (تھیلے) کے وزن کی کٹوتی کس طرح درست ہو سکتی ہے؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہی اصولوں کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
جواب
اگر گندم صاف اور معياری ہے تو پھر آڑھتی کا دو کلوگندم کے پیسے کاٹنا درست نہیں، اس صورت میں معاملہ ناجائز ہو جاتا ہے البتہ اس کا جواز کہ یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ صرف بوری کے وزن کے بقدر گندم زیادہ لے لے یا اس کے بقدر رقم کم دے۔
اور اگر گندم صاف اور معیاری نہیں ہے تو پھر گندم کا ریٹ معیاری گندم سے کم طے کرکے معاملہ کیا جائے، اس صورت میں بھی متعین دو کلو گندم کے پیسے کم دینا جائز نہیں ہے۔
اسی طرح آڑھتی سے دوسرے شہر والوں کا ایک کلو سے زائد گندم کاٹنا شرعاً درست نہیں ہے، بلکہ وہ مذکورہ بالاتفصیل کے مطابق معاملہ کریں۔
لما في تبيين الحقائق:
لا يجوز بيع زيت كل رطل بدرهم على أن يزنه بظرفه ويطرح عن الزيت الموزون مكان كل ظرف خمسين رطلا ويجوز إن شرط أن يطرح بوزن الظرف
(البيين مع حاشية الشلبي، كتاب البيوع، 4/ 56 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: معاش و اموال