فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

موبائل میں موجود ڈیٹے کو ڈیلیٹ کرنے کی قسم کھائی اور مراد مخصوص ویڈیوز تھیں تو ایسی صورت میں قسم کا حکم

فتویٰ نمبر 220202610106 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

موبائل میں موجود ڈیٹے کو ڈیلیٹ کرنے کی قسم کھائی اور مراد مخصوص ویڈیوز تھیں تو ایسی صورت میں قسم کا حکم

سوال
اگر کسی شخص نے مستقبل کے کسی کام کے لیے قسم کھا لی، جیسے موبائل میں موجود مخصوص ویڈیوز کے حوالے سے کہا کہ اللہ کی قسم میں ڈیٹے کو ڈیلیٹ کروں گا، اور بعد میں ضروری ڈیٹا نکالنے کے بعد باقی ڈیٹا ختم کرنا چاہے، تو اس صورت میں قسم کا کفارہ کب لازم ہوگا؟ کیا قسم ٹوٹنے سے پہلے کفارہ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر موبائل بیچ دیا جائے، خراب ہو جائے یا ویڈیوز ڈیلیٹ نہ کرنے کی صورت میں مالک کی وفات سے کچھ دیر قبل ہی قسم ٹوٹ جائے گی یا نہیں ؟ نیز کفارہ کب لازم ہوگا؟
جواب
برتقدیر صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں قسم منعقد ہوچکی ہے، تاہم زید کو اختیار ہے کہ وہ اپنے موبائل سے ضروری ڈیٹا نکالنے کے بعد بقیہ تمام ڈیٹا ختم (ڈیلیٹ) کردے۔ نیز قسم کا کفارہ حانث ہونے (قسم ٹوٹنے ) کے بعد لازم ہوتا ہے، حانث ہونے سے پہلے قسم کا کفارہ ادا کرنا صحیح نہیں، اور صورت مسئولہ میں مذکورہ موبائل کے بیچ دینے ، بالکل خراب ہوجانے یا خود زید کی وفات سے کچھ ہی دیر قبل حنث متحقق ہوگا، ان سے پہلے قسم کا کفارہ ادا کرنے سے زید بری الذمہ نہ ہوگا۔ المبسوط للسرخسي: ثم الكفارة تجب خلفا عن البر الواجب باليمين، ولهذا يجب في المعقودة على أمر في المستقبل بعد الحنث (كتاب الأيمان، 8/ 129 ط:دار المعرفة) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ثم وقت وجوب الكفارة في اليمين المعقودة على المستقبل هو وقت وجود الحنث فلا يجب إلا بعد الحنث عند عامة العلماء (كتاب الأيمان، 3/ 18 ط: دار الكتب العلمية) النتف في الفتاوى للسغدي: واما الكفارة فانها لا تجوز قبل الحنث في قول ابي حنيفة واصحابه (كتاب الايمان والكفارات، 1/ 383 ط: مؤسسة الرسالة فقط واللہ اعلم
حوالہ: اَیمان و نذور