قبر پر اذان دینے اور قبر کو پختہ بنانے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں :
۱۔ قبر پر اذان دینا شرعاً جائز ہےیا نہیں؟
۲۔ قبر کو پختہ بنانا شرعاً جائز ہےیا نہیں؟
جواب
۱۔ آپ ﷺ نبوت عطاء ہونے کے بعد تقریباً ۲۳ سال تک زندہ رہے، اسی طرح خلفاء اربعہ و دیگرصحابہ کرام ؓ تقریباً ایک صدی تک زندہ رہے اور اس عرصے میں بہت سے جنازے ادا کئے لیکن کسی نے بھی میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان نہیں دی، اگر اذان دینا باعث ِ ثواب یا میت کو عذاب سے بچانے والا ہوتا تو وہ(نیکی پر حریص تھے) ضرور ایسا کرتے، سو جب ان حضرات سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے تو ہمیں بھی اس سے بچنا چاہیے؛ اس لئے کہ وہ ہمارے لئے لائق ِ تقلید ہیں، بلکہ اگر کوئی اس کو لازم سمجھتا ہے یا نہ کرنے والے کو ملامت کرتا ہے تو یہ بدعت بن جائے گا ، اور اس کو چھوڑنا لازم ہے۔
لما في الاعتصام للشاطبي:
كل عبادة لم يتعبدها أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلا تعبدوها۔۔۔
(الباب الثامن في الفرق بين البدع والمصالح المرسلة، ت الشقير والحميد والصيني، 3/ 38 ط: دار ابن الجوزي، السعودية)
شرح السنة للبغويؒ:
وقال حذيفة: يا معشر القراء، استقيموا فقد سبقتم سبقا بعيدا، وإن أخذتم يمينا وشمالا، لقد ضللتم ضلالا بعيدا
(كتاب الإيمان ، باب رد البدع والأهواء، 1/ 214 تحقيق: شعيب الأرنؤوط-محمد زهير الشاويش، ط: المكتب الإسلامي، مصر)
سنن الدارمي:
قال عبد الله (ابن مسعودؓ): اتبعوا ولا تبتدعوا فقد كفيتم
(باب في كراهية أخذ الرأي ، 1/ 80و ت زمرلي والعلمي، ط: دار الكتاب العربي)
جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد:
ابن مسعود قال: من كانَ مستنًا فليستنّ بمن قد ماتَ
(كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، 1/ 30 تحقيق وتخريج: أبو علي سليمان بن دريع، ط: مكتبة ابن كثير، الكويت)
البتہ میت کی مغفرت و نزولِ رحمت کیلئے آپ ﷺ سےمیت کو قبر میں رکھتے وقت بسم الله على ملة رسول الله پڑهنا، اور تین مٹھی مٹی ڈالتے وقت پہلی بار منها خلقناكم ،دوسری بار وفيها نعيدكم اور تیسری بار ومنها نخرجكم تارة أخرىٰ پڑھنا ثابت ہے۔
۲۔ قبر کو پختہ بنانے سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے، لہٰذا قبر کو پختہ نہ بنایا جائے۔ صحابہ کرام ؓ آپﷺ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ وضوء کے دوران اعضاء سے گرنے والا پانی زمین پر گرنے نہ دیتے تھے، بلکہ اس کو اپنے بدن پر مل لیتے تھے، اس کے باوجود انھوں نے آپ ﷺ کی قبر اطہر کو پختہ نہیں کرایا، جبکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قبر کو جب تک پختہ نہ کریں گے، تب تک محبت کا حق ادا نہ ہوگا، جو کہ سراسر غلط سوچ ہے، اس لئے قبر کو پختہ نہ بنایا جائے۔
لما في صحيح مسلم:
عن جابر، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر۔۔۔
(كتاب الجنائز، باب النهي عن تجصيص القبر والبناء عليه، 2/ 667 ط: دار إحياء التراث العربي)
ولما في بدائع الصنائع:
ويكره تجصيص القبر (كتاب الصلاة، قبيل فصل أحكام الشهيد، 1/ 320 ط: دار الكتب العلمية)
البناية شرح الهداية:
في " المحيط ": لا يجص القبر۔۔۔ وكره التجصيص الحسن والنخعي، والثوري، ومالك، والشافعي، وأحمد۔۔۔
(كتاب الجنائز، باب الجنائز، فصل في الدفن، 3/ 259 ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز