فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مقرر ماہانہ رقم لینا اور مکمل نقصان ایک فریق کو برداشت کرنے کی شرط کے ساتھ شراکت کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 220202610101 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مقرر ماہانہ رقم لینا اور مکمل نقصان ایک فریق کو برداشت کرنے کی شرط کے ساتھ شراکت کا شرعی حکم

سوال
محمد سہیل (فریق دوم)نے محمد شہباز(فریق اول) کو پانچ لاکھ روپے بطور شراکت کے کاروبار میں لگانے کیلئے دئیے اور طے یہ ہوا کہ فریق اول فریق ثانی کو ہر ماہ پچاس ہزار روپے دے گا اور نقصان ہوجانے کی صورت میں فریق اول ذمہ دار ہوگا، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح شراکت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟جبکہ معاملہ ہوچکا ہے۔بينوا فتوجروا
جواب
بر تقديرِ صحتِ واقعہ صورت ِ مسئولہ میں طے کی گئی شرائط پر معاہدہ کرنا شرکتِ فاسدہ ہے اور ناجائز ہے، لہٰذا مذکورہ معاملہ کو فی الفور ختم کیا جائے اورمحمد سہیل اپنی اصل رقم کا ہی مستحق ہے اور محمد شہباز پر لازم ہے کہ وہ جلد از جلد محمد سہیل کو اس کی اصل رقم ادا کرے۔ لما في فتح القدير: قال (ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما (كتاب الشركة، فصل ولا تنعقد الشركة إلا بالدراهم۔۔۔، 6/ 183 ط: دار الفكر) ولما في درر الحكام شرح مجلة الأحكام : (الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر) الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة , بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي ان شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف { الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين} (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى) (الكتاب العاشر الشركات، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل السادس في شركة العنان، رقم المادة 1369، ۳/۳۸۹، الناشر: دار الجيل) فقط واللہ اعلم
حوالہ: شرکت