غیر رہائشی طلبہ والے مدرسے کا زکوۃ اور عشر لینے کا حکم
سوال
کیا مدرسے میں زکوٰۃ اور قربانی کی کھالیں لے کر استعمال کرنا جائز ہے؟ جب کہ مدرسہ میں کوئی طالب علم رہائشی نہیں ہے۔
جواب
اگر مدرسہ میں بقاعدہ تعلیم ہوتی ہے ، اساتذہ کی تنخواہیں و بجلی کے بل وغیرہ ادا کرنے پڑتے ہیں تو ان کا زکوۃ و قربانی کی کھالیں لینا جائز ہے،لیکن تملیکِ شرعی کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں انتطامیہ گناہ گار ہوگی، اور لوگوں کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔۔۔ اور اگر مدرسہ میں بقاعدہ کل وقتی تعلیم نہیں ہوتی تو ان کا زکوۃو عشر لینا درست نہیں۔
لما في الفتاوى الهندية:
أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى –
(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرها، 1/ 170 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات