فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

غیر رہائشی طلبہ والے مدرسے کا زکوۃ اور عشر لینے کا حکم

فتویٰ نمبر 219202610097 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

غیر رہائشی طلبہ والے مدرسے کا زکوۃ اور عشر لینے کا حکم

سوال
کیا مدرسے میں زکوٰۃ اور قربانی کی کھالیں لے کر استعمال کرنا جائز ہے؟ جب کہ مدرسہ میں کوئی طالب علم رہائشی نہیں ہے۔
جواب
 اگر مدرسہ میں بقاعدہ تعلیم ہوتی ہے ، اساتذہ کی تنخواہیں و بجلی کے بل وغیرہ ادا کرنے پڑتے ہیں تو ان کا زکوۃ و قربانی کی کھالیں لینا جائز ہے،لیکن تملیکِ شرعی کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں انتطامیہ گناہ گار ہوگی، اور لوگوں کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔۔۔ اور اگر مدرسہ میں بقاعدہ کل وقتی تعلیم نہیں ہوتی تو ان کا زکوۃو عشر لینا درست نہیں۔ لما في الفتاوى الهندية: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى – (كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرها، 1/ 170 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات