فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

غیر مقدور التسلیم مقبوضہ زمین کی فروخت کرنا اور قبضہ کے بعد ثمن ادا کرنا

فتویٰ نمبر 218202610095 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

غیر مقدور التسلیم مقبوضہ زمین کی فروخت کرنا اور قبضہ کے بعد ثمن ادا کرنا

سوال
اگر بائع نے ایسی زمین فروخت کی ہے جس پر پہلے کسی غیر نے قبضہ کر رکھا تھا اور مشتری نے عدالت میں کیس کر کے قبضہ لیا، تو بیع اور ثمن کی ادائیگی کا شرعی حکم کیا ہے؟ آیا مشتری نے کیس پر جو خرچہ کیا ہے وہ ثمن سے کاٹ سکتا ہے؟ یہ زمین چھ لاکھ روپے کی خریدی تھی۔
جواب
بر تقدیر صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بائع کا اپنی زمین (جس پر غیر نے قبضہ کرکے رکھا ہے)کو فروخت کرنا بیع فاسد تھا ؛ کیونکہ مبیع غیر مقدور التسلیم ہے، تاہم اب بائع نے مشتری کو قبضہ دے دیا ہے تو بیع تام ہوچکی ہےاور مشتری کے ذمہ چھ لاکھ ثمن ادا کرنالازم ہوگیا ہے، البتہ مشتری نے زمین کا قبضہ حاصل کرنے کیلئے کیس کیا تھا کہ کیس کئے بغیر قبضہ حاصل نہ ہوپا رہا تھا، اس لئے کیس کی پیروی میں جس قدر خرچہ آیا، صرف اتنی رقم ثمن سے منھا کرکے چھ لاکھ میں سے بقیہ رقم مشتری کے ذمہ بائع کو ادا کرنا لازم ہے۔ لما في الدر المختار: وكذا) يضمن (لو سعى بغير حق عند محمد زجرا له) أي للساعي (وبه يفتى) (الدر مع الرد، كتاب الغصب، مطلب في ضمان الساعي، 6/ 213، ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: بیوع