فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

شراکت میں ایک شریک کیلئے مخصوص رقم ماہانہ ادا کرنے شرط لگانے کا حکم

فتویٰ نمبر 218202610094 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

شراکت میں ایک شریک کیلئے مخصوص رقم ماہانہ ادا کرنے شرط لگانے کا حکم

سوال
کیا شراکت (پارٹنرشپ) میں یہ شرط لگانا کہ ایک شریک کو طے شدہ خاص رقم مثلآ ماہانہ 10000 ملے گا تو یہ جائز ہے؟
جواب
سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق کسی ایک شریک کے لیے مخصوص رقم کی شرط لگا کر شرکت کا معاملہ کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔شرکت میں دونوں شریکوں کے لیے فیصد کے اعتبار سے نفع کا تعین ضروری ہے۔ البتہ کسی ایک شریک کے لیے اس کے کام یا تجربہ کی وجہ سے زیادہ نفع فیصد کے اعتبار سے طے کرنے کی گنجائش ہے۔ جيساكہ الهداية میں ہے: قال: "ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح" لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما (كتاب الشركة، فصل: لا تنعقد الشركة إلا بالدراهم، 3/ 11 ط: دار احياء التراث العربي) تبيين الحقائق: قال - رحمه الله - (وتفسد إن شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة في بعض الوجوه فلعله لا يخرج إلا القدر المسمى لأحدهما من الربح (التبيين مع حاشية الشلبي كتاب الشركة، 3/ 319 ط: المطبعة الكبرى الأميرية) هكذا في البحر الرائق (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الشركة، 5/191 ط: دار الكتاب الإسلامي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: شرکت