فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

پاکستان میں رمضان و عید کے چاند کا اعلان میں ضلعی یا انفرادی کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے اعلان میں اختلاف ہو جائے تو حکم

فتویٰ نمبر 218202610090 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

پاکستان میں رمضان و عید کے چاند کا اعلان میں ضلعی یا انفرادی کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے اعلان میں اختلاف ہو جائے تو حکم

سوال
کیا حکومتِ کے پی کے یا ضلعی رویتِ ہلال کمیٹی رمضان یا عید کا اعلان کرنے کے مجاز ہیں؟ اگر حکومت اور ضلعی کمیٹی کا اعلان مختلف دن ہو تو روزہ یا عید کیسے منائی جائے؟ کیا پاکستان میں سعودی عرب یا دیگر ممالک کے روزہ و عید کے اوقات پر عمل کرنا جائز ہے؟ اختلاف مطالع کا کیا فقہی حکم ہے؟
جواب
قانونی طور پر آئین کی رو سے حکومت کے پی کے کو رمضان یا عید کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں تھا اور نہ ہی کسی ضلعی رویتِ ہلال کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ رمضان یا عید کے چاندکا اعلان کریں ، بلکہ ان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ رمضان یا عید کے چاند کی رویت کے متعلق شہادتوں کو مرکزی رویت ِ ہلال کمیٹی تک پہنچائیں اور پھر مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی شہادتوں کا جائزہ لیکر رمضان یا عید کا اعلان کرنے کی مجاز ہے، پس حکومتِ کے پی کے کا یا ضلعی رویتِ ہلال کمیٹی کا رمضان یا عید کا اعلان کرنا گویا اختیارات سے تجاوز کرنا ہے، اس لئے قانونی اعتبار سے ان کا اعلان غیر معتبر ہونا چاہیے۔لہٰذا جن لوگوں نے حکومتِ کے پی کے کے عید کے اعلان پر عید منائی اور روزہ نہیں رکھا ان کے ذمہ ایک دن کے روزہ کی قضاء لازم ہے۔ تعجب ہے کہ رمضان یا عید کے علاوہ کے پی کے کی مذکورہ رویت ِ ہلال کمیٹیاں دیگر اسلامی مہینوں کی ابتداء و انتہاء میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلہ سے اختلاف نہیں کرتیں اور اس کے فیصلہ کومانتی ہیں، جبکہ رمضان و عید کےچاند کے متعلق فیصلے سے اختلاف کرتی ہیں۔ صوبہ بلوچستان اور صوبہ کے پی کے کے بعض لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ ہمیں رمضان و عید سعودیہ کے ساتھ کرنی چاہیے کہ جس دن ان کے ہاں روزہ ہو یا عید ہو تو ہمیں بھی اس دن روزہ رکھنا یا عید منانی چاہیے، تو ایسے لوگوں کی یہ سوچ درست نہیں، کیونکہ پاکستان اور سعودیہ بلادِ بعیدہ میں سے ہیں اور ان کے درمیان اختلافِ مطالع متحقق ہے، بارہا کا مشاہدہ ہے کہ سعودیہ میں روزہ یا عید ایک دن پہلے ہوتا ہے اور ہمارے ہاں پاکستان میں ان کے ایک دن بعد روزہ یا عید ہوتی ہے ، بلکہ بعض اوقات تو دو دن کا فرق بھی آجاتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے: عن كريب أن أم الفضل بنت الحارث بعثته إلى معاوية بالشام قال فقدمت الشام فقضيت حاجتها واستهل على رمضان وأنا بالشام فرأيت الهلال ليلة الجمعة ثم قدمت المدينة فى آخر الشهر فسألنى عبد الله بن عباس - رضى الله عنهما - ثم ذكر الهلال فقال متى رأيتم الهلال فقلت رأيناه ليلة الجمعة. فقال أنت رأيته فقلت نعم ورآه الناس وصاموا وصام معاوية. فقال لكنا رأيناه ليلة السبت فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين أو نراه. فقلت أولا تكتفى برؤية معاوية وصيامه فقال لا هكذا أمرنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- (صحيح مسلم،كتاب الصيام، باب بيان أن لكل بلد رؤيتهم، ۱/۳۶۸ ط: قدیمی) لما في بدائع الصنائع: هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر وحكى عن أبي عبد الله بن أبي موسى الضرير أنه استفتي في أهل اسكندرية أن الشمس تغرب بها ومن على منارتها ترى الشمس بعد ذلك بزمان كثير فقال يحل لأهل البلد الفطر ولا يحل لمن على رأس المنارة إذا كان يرى غروب الشمس لأن مغرب الشمس يختلف كما يختلف مطلعها فيعتبر في أهل كل موضع مغربه (كتاب الصوم، فصل في شرائطها، 2/ 83 ط: دار الكتاب العرب) ولما في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (وقيل: يختلف باختلاف المطالع) .وفي التبيين، والأشبه أن يعتبر هذا القول؛ لأن كل قوم يخاطبون بما عندهم، وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار كما أن دخول الوقت وخروجه يختلف باختلافهما.وقال في الدرر يؤيده ما مر في أول كتاب الصلاة أن صلاة العشاء والوتر لا تجب بفاقد وقتهما.وفي الاختيار وذكر في فتاوى الحسامية إذا صام أهل مصر ثلاثين يوما برؤية وأهل مصر آخر تسعة وعشرين يوما برؤية فعليهم قضاء يوم إن كان بين المصرين قرب بحيث يتحد المطلع وإن كان بعد بحيث يختلف لا يلزم أحد المصرين حكم الآخر، وحده على ما في الجواهر مسيرة شهر فصاعدا (كتاب الصوم، 1/ 239) ولما في بداية المجتهد ونهاية المقتصد: وإذا قلنا: إن الرؤية تثبت بالخبر في حق من لم يره، فهل يتعدى ذلك من بلد إلى بلد؟ - أعني: هل يجب على أهل بلد ما إذا لم يروه أن يأخذوا في ذلك برؤية بلد آخر أم لكل بلد رؤية؟ ۔۔۔ وأجمعوا أنه لا يراعى ذلك في البلدان النائية كالأندلس والحجاز.والسبب في هذا الخلاف: تعارض الأثر والنظر.أما النظر: فهو أن البلاد إذا لم تختلف مطالعها كل الاختلاف فيجب أن يحمل بعضها على بعض لأنها في قياس الأفق الواحد. وأما إذا اختلفت اختلافا كثيرا فليس يجب أن يحمل بعضها على بعض.وأما الأثر: فما رواه مسلم عن كريب أن أم الفضل بنت الحرث بعثته إلى معاوية بالشام فقال: قدمت الشام ۔۔۔۔ الخ (كتاب الصيام، الركن الأول في الصيام هو الزمان، 2/ 50ط: دار الحديث – القاهرة) جواہر الفقہ میں مفتی اعظم مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی رقمطراز ہیں: جماعتِ حنفیہ ؒ نے آخری قول کو اختیار کیا (ہے)کہ بلادِ بعیدہ میں (اختلافِ مطالع کا ) اعتبار کرنا چاہیے۔ فقہاے حنفیہؒ میں سے زیلعیؒ اور صاحبِ بدائعؒ وغیرہ جن کی جلالتِ شان فقہاءِ حنفیہؒ میں مسلم ہے، انھوں نے اسی آخری قول کو ترجیح دی ہے۔ (جواہر الفقہ، کتاب الصوم، ۳/ ۴۸۱ ط: دارالعلوم، کراچی) اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام ابو حنیفہ ؒ اوردیگر اجلہ ائمہ حنفیہؒ سےاختلاف مطالع کا اعتبار نہ کرنا منقول ہے تو اس کا جواب مفتی اعظم مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: احقر کا گمان یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اور دیگرائمہؒ جنھوں نے اختلافِ مطالع کو غیر معتبر قرار دیا ہے، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ جن بلاد میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہے، وہاں ایک جگہ کی شہادت دوسری جگہ پہنچنا ان حضرات کے لئے محض ایک فرضی قضیہ اور تخیل سے زائدکوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اور ایسے فرضی قضایا سے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نادر کو بحکمِ معدوم قرار دینا فقہاء ؒ میں معروف ہے، اس لئے اختلافِ مطالع کو مطلقاً غیر معتبر فرمایا۔ (جواہر الفقہ، کتاب الصوم، ۳/ ۴۸۲ ط: دارالعلوم، کراچی) جیسے سعودیہ کے اوقاتِ نماز دیارِ پاکستان کے اوقاتِ نماز سے مختلف ہیں اور کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، نمازیں اپنے اوقات پر ادا کرتے ہیں اور سب اس کو تسلیم بھی کرتے ہیں تو روزہ و عید بھی ایک عبادت ہے ، اگر انکے اوقات سعودیہ کے اوقات سے مختلف ہوگئے تو اس پر بھی کسی کو معترض نہیں ہونا چاہیے بلکہ فراخ دلی سے اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے اور اپنی خواہش کوانتشار کا باعث نہ بنایا جائے۔ ۴۔ اگر چند لوگ اپنی اپنی کمیٹی بنا کر رمضان یا عید کا فیصلہ کرنے لگ جائیں تو ملک کے چار صوبے ہیں تو ملک پاکستان میں کم ازکم چار عیدیں(اور زائد کی کوئی حد نہیں) ہونے لگ جائیں گی اور اس صورت میں کس قدر انتشار ہوگا، ظاہرو بین ہے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: روزہ