فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

شوہر حرمت مصارت کے مسئلے میں بیوی کی تصدیق کر دے یا اس کا ظن غالب ہو تو حکم

فتویٰ نمبر 218202610082 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

شوہر حرمت مصارت کے مسئلے میں بیوی کی تصدیق کر دے یا اس کا ظن غالب ہو تو حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام کہ زید کے باپ نے ادھی رات کو اس کی بیوی فاطمہ کے پاس ا کر اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور سینے پر ہاتھ لگایا۔ اب زید کا باپ انکاری ہے جبکہ زید گواہوں کے سامنے یہ اقرار کر چکا ہے کہ میرے باپ کا قصور ہے لیکن اب وہ اس کا انکار کرتا ہے جبکہ فاطمہ کے پاس کوئی شرعی گواہ نہیں ہیں۔ سوالات: کیا اس اقرار سے حرمتِ مصاہرت شرعاً ثابت ہو گئی؟ کیا زید کو دوبارہ فاطمہ کے ساتھ نکاح کرنے کا حق ہے؟ اگر زید فاطمہ کو چھوڑنے/آزاد کرنے کا لفظ نہ کہے تو عدالت میں کیا طریقہ اختیار ہوگا؟ فاطمہ دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے کب بااختیار ہوگی؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں جب زید گواہوں کے سامنے اقرار کرچکا ہے کہ "میرے والد کا قصور ہے، اور وہ اسی طرح کی حرکتیں کرتا ہے" تو اس اقرار سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگئی ہے؛ کیونکہ جب شوہر عورت کی تصدیق کرے یااس کو واقعہ کے سچے ہونے کا ظنِ غالب ہوجائےتوحرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔ صورتِ مسئولہ میں جب زید نےدوسروں کے سامنےیہ کہا کہ"میرے والد کا قصور ہے، اور وہ اسی طرح کی حرکتیں کرتا ہے"تو اس سے معلوم ہوا کہ اسے بیوی کے سچا ہونے کا یقین یا ظنِ غالب ہوچکا تھا، اسی وجہ سے اس نے شک کے الفاظ سے تذکرہ نہیں کیا۔ لما في البحر الرائق: وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها۔۔۔ أو يغلب على ظنه صدقها (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، 3/107 ط: دار الكتاب الإسلامي) هكذا في رد المحتار(الدر مع الرد، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، 3/ 33 ط: دار الفكر) جب زید کا اقرار شہادتِ شرعیہ سے ثابت ہے تو اب اس کا رجوع شرعاً مفید نہ ہوگا کیونکہ حرمتِ مصاہرت کے مسئلہ میں اپنے اقرار پر برقرار رہنا یا اصرار کرنا شرعاً شرط نہیں۔ لما في خلاصة الفتاوي: قيل: لرجل ما فعلت بأم امرأتك؟ قال: جامعتها ثبتت الحرمة ولا يصدق أنه كذب وإن كانوا هازلين والإصرار ليس بشرط في الإقرار لحرمة المصاهرة (كتاب النكاح، الفصل الثالث في حرمة المصاهرة، 2/10 ط: رشيدية) هكذا في البحر الرائق شرح كنز الدقائق (البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، 3/ 109 ط: دار الكتاب الإسلامي) هكذا في النهر الفائق شرح كنز الدقائق (كتاب النكاح، فصل في المحرمات،  2/191 ط: دار الكتب العلمية) الحاصل مذکورہ جزئیات سے معلوم ہوا کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہوچکی ہے، فاطمہ زید پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوچکی ہے، اب وہ دوبارہ کبھی زید کے ساتھ آباد نہیں ہوسکتی، اس لئے  زید پر لازم ہے کہ وہ فاطمہ کو "میں نے تجھے چھوڑ دیا/آزاد کردیا "کہے،پھر عدت گزار کر فاطمہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بااختیار ہوگی۔ اور اگر زید یہ نہ کہے تو عدالت سے طلاق کی ڈگری لے لی جائے، اس کے بعد فاطمہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں بااختیار ہوگی۔ (الدر المختار مع رد المحتار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات في النكاح، 3/ 37 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح