تربوز اور خربوزے کی خرید و فروخت میں کاٹ کر خراب نکلنے کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
عام طور پر تربوز یا خربوزہ خریدتے وقت یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ اگر کاٹنے پر وہ خراب، بدبودار، یا اندر سے سفید نکلے تو خریدار کو نیا تربوز / خربوزہ دیا جائے گا یا پیسے واپس کیے جائیں گے۔
کیا یہ صورت تربوز اور خربوزہ دونوں میں یکساں ہے؟
اگر بائع نے تربوز یا خربوزہ کاٹ کر دیا اور وہ خراب نکلا تو شرعاً کیا حکم ہے؟
اگر خریدار گھر لے جا کر خود کاٹے اور وہ اندر سے کچھ خراب نکلے تو کیا وہ مکمل رقم واپس لے سکتا ہے؟
جزوی خرابی اور کلی خرابی کی صورت میں شرعی طور پر رجوع (واپسی) کا کیا حکم ہے؟
قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب
سائل کی ذکر کردہ صورت تربوز میں مسلم ہے، خربوزے میں نہیں، اسلئے کہ خربوزے کی خرید وفروخت میں زیادہ سے زیادہ یہ صورت پیش آسکتی ہے کہ ایک آدھ خربوزہ کاٹ کر بطور نمونہ کھلایا یا دکھلایا جاتا ہے، ہر خربوزہ کاٹ کر دینے پر سودا نہیں ہوتا۔لیکن اگر مذکورہ شرط لگا دی گئی تو اس کا حکم بھی تربوز والا ہوگا ۔
تربوز یا خربوزےکی ذکرکردہ شرط پر خریداری کی صورت میں اگر بائع یا مشتری نے تربوز/خربوزہ کاٹا اوربالکل خراب وبدبودار نکلا تو مشتری کو اختیار ہوگا کہ یاتو نیا تربوز /خربوزہ لے لے یا اگر پیسے دے چکا ہے تو مکمل ثمن واپس لے لے۔
اگر تربوز /خربوزہ بائع نے کاٹا اور کچھ سفید و کچھ سرخ نکلاجوکہ عرف میں عیب شمار ہوتا ہے،اور کاٹنے کا عیب بھی بائع ہی کے فعل سے پیدا ہوا ہے تواس صورت میں نیا تربوز لینا یا ثمن ادا کردینے کی صورت میں واپس لینا درست ہے۔
۲۔ اور اگر مشتری تربوز/خربوزہ گھر لے آیا پھر کاٹا اگر کچھ سفید و کچھ سرخ نکلا تو دیکھیں گے کہ اکثر تربوز خراب ہے یا نہیں، اگر اکثر تربوز خراب ہے تو مشتری مکمل ثمن کا رجوع کرے گا اور اگر معمولی خراب ہے تو پھر یہ مشتری کا ہے ، مشتری معمولی نقصان کا رجوع نہیں کرسکتا اس لئے کہ بالکل بے عیب ہونا بہت نادر ہوتا ہے۔
لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو اشترى مأكولا في جوفه كالبطيخ والجوز والقثاء والخيار والرمان والبيض ونحوها فكسره فوجده فاسدا فهذا في الأصل لا يخلو عن أحد وجهين إما أن وجده كله فاسدا، وإما أن وجد البعض فاسدا والبعض صحيحا، فإن وجده كله فاسدا فإن كان مما لا ينتفع به أصلا فالمشتري يرجع على البائع بجميع الثمن؛ لأنه تبين أن البيع وقع باطلا؛ لأنه بيع ما ليس بمال، وبيع ما ليس بمال لا ينعقد۔۔۔ وإن كان مما يمكن الانتفاع به في الجملة ليس له أن يرده بالعيب عندنا، وعند الشافعي - رحمه الله - له أن يرده۔۔۔ وإن وجد بعضه فاسدا دون البعض ينظر إن كان الفاسد كثيرا يرجع على البائع بجميع الثمن؛ لأنه ظهر أن البيع وقع في القدر الفاسد باطلا؛ لأنه تبين أنه ليس بمال، وإذا بطل في ذلك القدر يفسد في الباقي كما إذا جمع بين حر وعبد وباعهما صفقة واحدة، وإن كان قليلا فكذلك في القياس وفي الاستحسان صح البيع في الكل وليس له أن يرد ولا أن يرجع فيه بشيء؛ لأن قليل الفساد فيه مما لا يمكن التحرز عنه إذ هذه الأشياء في العادات لا تخلو عن قليل فساد فكان فيه ضرورة فيلتحق ذلك القدر بالعدم
(كتاب البيوع، فصل في خيار الشرط، 5/ 284 ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت