زکوٰۃ و عشر دینے کی شرعی اہلیت اور نصاب
سوال
اگر کوئی شخص نصاب (کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے برابر رقم) کا مالک نہیں ہے، تو کیا اس کو زکوٰۃ یا عشر دینا جائز ہے؟
جواب
زکوۃ و عشر وغیرہ اس شخص کیلئے لینا جائز ہے جو نصاب(یعنی کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کے بقدر رقم خواہ بانڈز کی شکل میں ہو یا ضرورت سے زائد اشیاء اتنی مالیت کی ہوں) کا مالک نہ ہو۔ لہذا سائل کے تحقیق ِ حال سے یہی بات معلوم ہوجائے کہ یہ نصاب کا مالک نہیں ہے تو اس کو زکوۃ و عشر وغیرہ دینا شرعاً درست ہیں۔لما في الدر المختار:
مصرف الزكاة والعشر۔۔۔ (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
(الدرمع الرد، كتاب الزكوة، 2/ 339 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: زکات