فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

پلاٹ کی ملکیت اور شرعی ورثاء میں تقسیم

فتویٰ نمبر 217202610070 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

پلاٹ کی ملکیت اور شرعی ورثاء میں تقسیم

سوال
اگر جنت بی بی نے اپنے پلاٹ کو اپنے بیٹے رشید احمد کے نام کیا لیکن قبضہ نہ دیا، تو اس پلاٹ کی ملکیت کس کے پاس ہوگی؟ اور وفات کے بعد اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ پلاٹ جنت بی بی کی ملکیت شمار ہوکر تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوگا؛ کیونکہ جنت بی بی نے مذکورہ پلاٹ رشید احمد(بیٹے) کو قبضہ دیے بغیر محض نام کیا، جس سے ھبہ(گفٹ) مکمل نہ ہوا اور جنت بی بی کی ملکیت میں بدستور برقرار رہا۔ لما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (الدر مع الرد، كتاب الهبة، 5/ 690 ط: دارالفكر) هكذا في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (كتاب الهبة، 3/ 491 ط: دارالكتب العمية) ولما في رد المحتار: لو قال: جعلته باسمك، لا يكون هبة (الدر مع الرد، كتاب الهبة، 5/ 689 ط: دارالفكر) نیز یہ گفٹ مرض الوفات میں وارث کو کیا گیا ہے، اور مرض الوفات میں وارث کو کیا گیا گفٹ وصیت ہوتا ہے اور وارث کے حق میں وصیت غیر معتبر ہونے کی وجہ سے مذکورہ پلاٹ کا گفٹ درست نہ ہوا۔ لما في مجلة الأحكام العدلية: (المادة 879) إذا وهب أحد في مرض موته شيئا لأحد ورثته وبعد وفاته لم تجز الورثة الباقون لا تصح تلك الهبة (الكتاب السابع: في الهبة، الباب الثالث: في بيان أحكام الهبة، الفصل الثاني: في هبة المريض، ص: 168 ط: نور محمد) الحاصل مذکورہ پلاٹ جنت بی بی کی ملکیت ہے اور اب ان کے انتقال کے بعد ان کے شرعی ورثاء (دو بیٹے اور ایک بیٹی) میں بعد ادائے قرض و وصیت جائزہ پانچ حصے ہوکر ہر بیٹے کو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض