فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

معتکف کا اعتکاف میں چندہ وغیرہ کیلئے اعلان کرنا

فتویٰ نمبر 217202610069 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

معتکف کا اعتکاف میں چندہ وغیرہ کیلئے اعلان کرنا

سوال
معتکف کو مسجد میں اعتکاف کے دوران سحری کے وقت جگانے یا رمضان میں ختمِ قرآن کی مٹھائی کے لیے چندہ کے اعلان میں حصہ لینا یا خود اعلان کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
۱،۲۔ اگر سحری کے وقت اٹھانے کیلئے اعلان کرنے والا شخص موجود ہے ، ایسے ہی تعمیر کیلئے چندہ کا اعلان کرنے والا شخص موجود ہے تو معتکف کو اس اعلان میں حصہ شامل نہیں کرنا چاہیے، اور اگر جگانے والا اور تعمیر کیلئے چندہ کا اعلان کرنے والا کوئی شخص نہیں ہے تو ایسی صورت میں مسجد شرعی کی حدود میں رہتے ہوئے ایک آدھ مرتبہ اعلان کرنے کی گنجائش ہے، تاہم اس کو مشغلہ نہ بنائے کیونکہ یہ مقصدِ اعتکاف کے خلاف ہے۔ ۳۔ رمضان میں ختمِ قران کے موقع پر مٹھائی کیلئے چندہ کرنا کئی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً درست نہیں ، اس لئے اس کے اعلان سے بھی احتراز کیا جائے، معتکف یا غیر معتکف کوئی بھی اس کا اعلان نہ کرے۔ تاہم اگر معتکف نے مذکورہ بالا اعلانات میں سے کوئی اعلان مسجد شرعی کی حدود میں رہتے ہوئے کردیا تو اس سے اس کا اعتکاف باطل نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: روزہ