وقف اراضی کا مدرسہ اور مسجد کے لیے استعمال
سوال
اگر کسی قطعہ اراضی کے حوالے سے کہا جائے کہ یہ مسجد کے لیے وقف ہے، لیکن اراضی کو انتظامیہ کے حوالہ نہیں کیا گیا،اور بعد میں وہی اراضی ایک مدرسہ کے لیے وقف کر دی اور مدرسہ کی انتظامیہ کو قبضہ بھی دے دیاتو کیا یہ وقف صحیح ہوگا؟ اور اس اراضی کو مدرسہ کے لیے استعمال کرنے میں کس کو روکنے کا حق ہے؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ قطعہ اراضی مدرسہ کیلئے وقف ہوچکا ہے، اب اس کو مدرسہ ہی کے مصرف میں استعمال کیا جائے، اور کسی کا بھی اس کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنا جائز نہیں ہے، اور رکاوٹ ڈالنے والوں کی یہ بات کے پہلے مسجد کو اراضی دینے کا کہا تھا ، لہٰذا یہ مسجد کی ملکیت ہے، درست نہیں ؛اس لئے کہ واقف کے محض خط کشیدہ الفاظ ادا کرنے سے مذکورہ قطعہ اراضی مسجد کیلئے وقف نہیں ہوجاتا ، کیونکہ وقف تام ہونے کیلئے ضروری تھا کہ واقف اپنے قول کے بعد اراضی کو مسجد کی انتظامیہ کے حوالہ بھی کردیتا، جبکہ زیرِ بحث صورت میں تسلیم(یعنی زمین کو حوالہ کرنا) نہیں پایا گیا، لہٰذا خط کشیدہ الفاظ غیر معتبر ہوں گے۔
لما في الفتاوى الهندية:
ولو قال: وهبت داري للمسجد أو أعطيتها له، صح ويكون تمليكا فيشترط التسليم، كما لو قال: وقفت هذه المائة للمسجد يصح بطريق التمليك إذا سلمه للقيم
(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد، الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم، 2/ 460 ط: دارالفكر)
هكذا في التاتارخانية (كتاب الوقف، رقم الفصل الحادي والعشرون مسائل وقف المسجد،8/171 ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف