فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وقف شدہ زمین کی فروخت اور مدرسہ کی مالی ضروریات میں استعمال کا حکم

فتویٰ نمبر 131202610062 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وقف شدہ زمین کی فروخت اور مدرسہ کی مالی ضروریات میں استعمال کا حکم

سوال
ایک شخص نے دینی ادارے کو کچھ رقم دی کہ اس کو مدرسہ کی ضروریات میں خرچ کریں،چنانچہ مہتمم صاحب نے اس رقم سے زرعی زمین خریدی کہ اس کو کاشت کرکے مدرسہ کے اخراجات میں صرف کیا جائے ، مگر اہلِ مدرسہ صحیح معنوں میں اس سے افادیت حاصل نہیں کرپا رہے، جس کی وجہ سے انتظامیہ نے ارادہ کیا ہے کہ اس کو فروخت کرکے رقم مدرسہ کی دیگر ضروریات میں صرف کی جائے۔ آیا اس طرح کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟جزاكم الله خيراً
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں انتظامیہ کیلئے اجازت ہے کہ وہ مذکورہ زمین کو فروخت کرکے اس کی رقم کو مدرسہ کی دیگر ضروریات میں صرف کرسکتے ہیں۔ الفتاوى الهندية: متولي المسجد إذا اشترى بمال المسجد حانوتا أو دارا ثم باعها جاز إذا كانت له ولاية الشراء، هذه المسألة بناء على مسألة أخرى إن متولي المسجد إذا اشترى من غلة المسجد دارا أو حانوتا فهذه الدار وهذا الحانوت هل تلتحق بالحوانيت الموقوفة على المسجد؟ ومعناه أنه هل تصير وقفا؟ اختلف المشايخ رحمهم الله تعالى قال الصدر الشهيد: المختار أنه لا تلتحق ولكن تصير مستغلا للمسجد (كتاب الوقف، الباب الخامس في ولاية الوقف۔۔۔، 2/ 417 ط: دار الفكر) هكذا في المحيط البرهاني في الفقه النعماني (كتاب الوقف، الفصل الحادي والعشرون: في المساجد، 6/ 216 ط: دار الكتب العلمية) هكذا في التاتارخانية (كتاب الوقف، رقم الفصل21، رقم المسئلة11568، ط:رشيدية) آئندہ کسی کاروبار میں ، زمین کی خریداری میں مدرسہ کی رقم خرچ نہ کی جائے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف