فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

چچا کے ملکیتی دئیے ہوئے مکان کو مدرسہ کے لیے وقف کرنے کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 131202610061 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

چچا کے ملکیتی دئیے ہوئے مکان کو مدرسہ کے لیے وقف کرنے کی شرعی حیثیت

سوال
میرا مکان جس میں میں رہتی ہوں، وہ میرے چچا کی ملکیت ہے، انھوں نے مجھے کہا ہے کہ مدرسہ بنا لو۔ میرا کوئی وارث نہیں ہے، میں یہ چاہتی ہوں کہ میں اپنی زندگی میں ہی اسے مدرسہ کے نام وقف کر دوں۔ آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا حل عنایت فرمائیں۔
جواب
مذکورہ مکان چونکہ سائلہ کے چچاکی ملکیت ہے، اس لئے اس کے وقف کرنے کا اصل اختیار انہی کو ہے، جب انھوں نے مذکورہ مکان کو مدرسہ بنانے کے ارادہ کا اظہار کیا ہے تو سائلہ کو بھی چاہیے کہ وہ اس خیر کے کام میں ان کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور مذکورہ مکان کو مدرسہ بنا لیں۔ اور مدرسہ بنانے کے بعد اس کی خریدو فروخت یا دوسرے مکان یا جگہ سے تبدیل کرنا جائز نہ ہوگا، اور نہ ہی اس میں سائلہ کے چچا کی وراثت جاری ہوگی۔ لما فی درر الحكام شرح غرر الأحكام: (وإذا لزم) الوقف (وتم لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه (ولا يملك) أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه (ولا يعار ولا يرهن) لاقتضائهما الملك (ولا يقسم۔۔۔ (کتاب الوقف، 2/ 134 ط: دار إحياء الكتب العربية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف