رقم دینے اور ماہانہ بغیر حساب کے نفع حاصل کرنے کی شرعی حیثیت اور اصول
سوال
اگر ہم کسی کو رقم دیں اور ماہانہ نفع حاصل کریں ، اس کے جواز کی شرعاً صورت بیان فرما دیں۔
جواب
واضح رہے کہ شریعت اسلامیہ کی نظر میں مشترکہ طور پر کاروبارکرکے نفع حاصل کرنے کی عموماً دو صورتیں ہیں:۔۔۔ایک مضاربت دوسرا شرکت۔۔۔اور دونوں کے جواز کیلئے ضروری ہے کہ معاملہ طے کرتے وقت نفع کو فیصد یا نصف، ثلث کے لحاظ سے طے کیا جائے ۔
نیز کاروبار میں نقصان ہو جائے تو مضاربت میں مکمل نقصان رب المال کا، اور شرکت میں سرمائے کے بقدر نقصان ہر شریک کاہوگا، اگر فیصد یا نصف، ثلث کے لحاظ سے نفع طے کرنے کے بجائے متعین رقم مثلاً ہزار، دو ہزار طے کر لی جائے کہ ہر ماہ اتنی رقم لوں گا تو یہ جائز نہیں ہے، اسی طرح اگر صرف نفع میں حصہ دار ہو اور نقصان ہوجانے کی صورت میں بری ہوتو یہ صورت بھی ناجائز ہے اور دونوں صورتوں میں نفع لینا جائز نہیں ہوگا۔
ولما في درر الحكام شرح مجلة الأحكام :
(الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال , وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر)
الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة , بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي أن شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف { الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين} (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى)
(الكتاب العاشر الشركات، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل السادس في شركة العنان،
رقم المادة 1369، ۳/۳۸۹، الناشر: دار الجيل)
ولما في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
و شرط كون الربح بينهما مشاعا أي لا تصح المضاربة حتى يكون الربح مشاعا بينهما بأن يكون أثلاثا أو منصفا ونحوهما لأن الشركة لا تتحقق إلا به فلو شرط لأحدهما دراهم مسماة تبطل (كتاب المضاربة، 3/ 446 ط:دارالكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: مضاربت