فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مسجد کے حصے کو جنازہ گاہ یا دیگر مقاصد میں تبدیل کرنا جائز نہیں

فتویٰ نمبر 131202610058 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مسجد کے حصے کو جنازہ گاہ یا دیگر مقاصد میں تبدیل کرنا جائز نہیں

سوال
ہماری مسجد بلال، واقع الفلاح کالونی، ملتان کو از سرِ نو تعمیر کیلئے شہید کردیا گیا، اب بعض ساتھیوں کی خواہش ہے کہ ہم مسجد کے کچھ حصہ کو جنازہ گاہ بنا دیں، آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جس حصہ کو مسجدِ شرعی بنا دیا جائے تو قیامت تک وہ مسجد رہتی ہے، اس کو ختم کرکے جنازہ گاہ ، راستہ، لیٹرین وغیرہ بنانا جائز نہیں ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں جو حصہ مسجدِ شرعی ہے ،اس کو ختم کرکے جنازہ گاہ بنانا جائز نہیں ہے۔ الدر المختار: (ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) (الدر مع الرد، كتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد، 4/ 358 ط:سعيد) هكذا في درر الحكام شرح غرر الأحكام (كتاب الوقف، 2/ 135 ط: دار إحياء الكتب العربية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف