مسجد کے حصے کو جنازہ گاہ یا دیگر مقاصد میں تبدیل کرنا جائز نہیں
سوال
ہماری مسجد بلال، واقع الفلاح کالونی، ملتان کو از سرِ نو تعمیر کیلئے شہید کردیا گیا، اب بعض ساتھیوں کی خواہش ہے کہ ہم مسجد کے کچھ حصہ کو جنازہ گاہ بنا دیں، آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جس حصہ کو مسجدِ شرعی بنا دیا جائے تو قیامت تک وہ مسجد رہتی ہے، اس کو ختم کرکے جنازہ گاہ ، راستہ، لیٹرین وغیرہ بنانا جائز نہیں ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں جو حصہ مسجدِ شرعی ہے ،اس کو ختم کرکے جنازہ گاہ بنانا جائز نہیں ہے۔
الدر المختار:
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي)
(الدر مع الرد، كتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد، 4/ 358 ط:سعيد)
هكذا في درر الحكام شرح غرر الأحكام (كتاب الوقف، 2/ 135 ط: دار إحياء الكتب العربية)
فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف