فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مدرسہ کے لیے پلاٹ خریدا جائے تو مسجد کی ملکیت نہ ہوگا، رہائش اور انتظام کی شرعی حیثیت

فتویٰ نمبر 131202610057 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مدرسہ کے لیے پلاٹ خریدا جائے تو مسجد کی ملکیت نہ ہوگا، رہائش اور انتظام کی شرعی حیثیت

سوال
ایک مسجد کے امام صاحب نے مسجد کے ساتھ ایک پلاٹ خریدا مدرسے کے لیے اور اس کے خریدنے میں لوگوں سے چندہ بھی لیتا رہا مختلف مدات میں، پھر اس میں دو منزلہ کمرہ بھی تعمیر کیا،تعمیرات میں زیادہ چندہ ایک دو افراد نے دیا اور ان سے یہ طے ہوا تھا کہ انتظام اس کا امام صاحب سنبھالیں گے۔ اب حال یہ ہے کہ محلے کے بعض افراد یہ چاہتے ہیں کہ امام صاحب سے مدرسے کا انتظام لے لیا جائے۔ اب درج ذیل سوال پوچھنے ہیں ۱ ) کیا وہ پلاٹ مسجد کے حکم میں آتا ہے؟ ۲) کیا رہائش رکھنا اوپر والی منزل میں جائز نہیں؟ ۳) اس کی ذمہ داری اور اہتمام کس کا حق ہوگا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کو حل فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
۱ ) بر تقدیرِ صحت واقعہ اگر امام نے لوگوں سے رقم مدرسہ بنانے کیلئے لی تھی تو مذکورہ رقم سے خریدے گئے پلاٹ میں مدرسہ ہی بنایا جائے، مذکورہ پلاٹ مسجد کا نہیں ہے۔ الفتاوى الهندية میں ہے: ولو وقف على عمارته يصرف إلى بنائه وتطيينه دون تزيينه ولو قال: على مصالحه يجوز في دهنه وبواريه أيضا (كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم وغيره في مال الوقف عليه، 2 / 461، ط:دارالفكر) الدر المختار میں ہے: (اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لأنهما حينئذ كشيء واحد(وإن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك (كتاب الوقف، فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد، 4 / 360 ط:سعید) ۲) مذکورہ پلاٹ مسجدِ شرعی میں داخل نہیں ہے، اس لئے وہاں دوسری منزل میں امام کا اہل و عیال سمیت رہائش اختیار کرنا، جائز ہے۔ ۳) پلاٹ نام کراتے وقت جب یہ طے ہوگیا تھا کہ اس کا انتظام امام صاحب سنبھالیں گے، لہٰذااب مدرسہ بن جانے کے بعد امام صاحب ہی مہتمم و متولی ہوں گے۔ البحر الرائق میں ہے: إذا كان للوقف متول من جهة الواقف أو من جهة غيره من القضاة لا يملك القاضي نصب متول آخر بلا سبب موجب لذلك وهو ظهور خيانة الأول أو شيء آخر (البحر الرائق شرح كنز الدقائق مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الوقف، الناظر بالشرط في الوقف، 5/ 254 ط: دار الكتاب الإسلامي) فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف