فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر تلاوت اور اذان کے کلمات کے طول کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 131202610055 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر تلاوت اور اذان کے کلمات کے طول کا شرعی حکم

سوال
۱۔ محلے کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر باآوازِ بلند قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے، اس تلاوت کا سننا محلے والوں پر واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو پھر محلے والوں کی عدمِ توجہ کی وجہ سے وہ گناہگار ہونگے یا قارئ (پڑھنے والا) ہوگا؟ ۲۔ اذان کے بعض کلمات کو بہت زیادہ لمبا کیا جاتا ہے، حالانکہ ان کلمات پر مد نہیں ہے، تو آیا ان کے زیادہ لمبا کرنے سے کلمات کے معانی میں کوئی فرق تو نہیں آتا؟ اور کیا ان کلمات کو لمبا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
۱۔ فاذا قرئ القراٰن۔۔۔ الأية سےبعض مفسرین نے نماز میں تلاوتِ قرآن سننے کو واجب قرار دیا ہے، جبکہ خارج از صلاۃ(نماز کے علاوہ حالت میں) قرآن کی تلاوت کرنے والے کو سننا واجب قرار نہیں دیا، بلکہ مستحب قرار دیا۔ اس لئے اہلِ علاقہ قرآن پاک کی تلاوت نہ سننے کی وجہ سے گناہگار نہیں ہونگے، تاہم مسجد کے قاری کو چاہیے کہ وہ بغیر اسپیکر کے تلاوت کیا کرے؛ تاکہ کسی کے آرام یا کام میں خلل و حرج نہ آئے، دوسرے کو تکلیف کی صورت میں پڑھنے والا گناہگار ہوگا۔ بیضاوي شریف: وظاہر اللفظ یقتضي وجوبہما حیث یقرأ القرآن مطلقا وعامۃ العلماء علی استحبابہما خارج الصلاۃ۔ (سورۃ الأعراف: ۲۰۴، ۱/ ۱۸۰) التفسیرات الأحمدیۃ: ہاتان آیتان، فالآیۃ الأولی استدل بہا بعض علماء الحنفیۃ في أن ترک القراء ۃ للمؤتم فرض، وذلک لأن اﷲ تعالی أمر باستماع القرآن والإنصات عند قراء ۃ القرآن مطلقا، سواء کان في الصلاۃ أو في غیرہا، ولکن لما کان عامۃ العلماء غیر قائلین بوجوب الاستماع خارج الصلاۃ بل باستحبابہ، وکان الآیۃ ردا علی رجل من الأنصار یقرأ خلف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم في الصلاۃ علی ما في الحسیني، وکان جمہور الصحابۃ علی أن الآیۃ في استماع المؤتم خاصۃ، وقیل في الخطبۃ: الأصح أنہ فیہما جمیعا علی ما في المدارک ثبت أن القرآن واجب الاستماع في الصلاۃ ۔۔۔الخ (التفسیرات الأحمدیۃؒ للعلامۃ ملاجیون جونفوري، ص: ۲۷۹-۲۸۰) تفسیر مظہري : اختلف العلماء في وجوب الاستماع والإنصات علی من ہو خارج الصلاۃ یبلغہ   صوت من یقرأ القرآن في الصلاۃ أو خارجہا، قال البیضاوي: عامۃ العلماء علی استحبابہا خارج الصلاۃ، وقال ابن الہمام: وفی کلام أصحابنا ما یدل علی وجوب الاستماع في الجہر بالقراء ۃ مطلقا۔ (سورۃ الأعراف: ۲۰۴، ۳/ ۴۸۰) تفسیر ابن کثیر: وقال سفیان الثوري عن أبي ہاشم إسماعیل بن کثیر عن مجاہد في قولہ: ’’وإذا قرئ القرآن فاستمعوا لہ وأنصتوا‘‘ قال في الصلاۃ، وکذا رواہ غیر واحد عن مجاہد، وقال عبدالرزاق عن الثوري عن لیث عن مجاہد قال: لا بأس إذا قرأ الرجل في غیر الصلاۃ أن یتکلم الخ۔ (سورۃ الأعراف: ۲۰۴، ۳/ ۲۶۱-۲۶۲) امداد الفتاوی میں ہے: سوال (۲۳۲۵) : بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ استماع قرآن نماز میں واجب ہے اور خارج نماز کے واجب نہیں ۔ اور بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن شریف پڑھے اور سامع نہ سُنے بوجہ کسی شغل کے خواہ دینی ہو یا دینوی تو قاری کو گناہ ہوگا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت عام ہے صلوٰۃ اور خارج صلوٰۃ کو اور امام صاحب کا کلیہ المطلق یجري علی إطلاقہ بھی اس کا مؤیّد معلوم ہوتا ہے۔ آج کل علماء کس پر فتویٰ دیتے ہیں ؟ الجواب: سماع قرآن میں دونوں قول ہیں (۱) میں آسانی کے لئے اسی کو اختیار کرتا ہوں کہ خارج صلوٰۃ مستحب ہے۔ (امداد الفتاوی مؤلفہ:مجدد ملت حکیم الامت حضرت تھانویؒ ، کتاب الحظر والباحۃ، ۴/ ۵۹ ط:دارالعلوم، کراچی) ۲۔ اذان ترسل ، تمہل اور وقف سے ادا کرنا مستحسن ہے، اور قواعد کا لحاظ رکھتے ہوئے حروف کو کھینچنے کی گنجائش ہے، قواعد کے خلاف زائد کھینچنا ممنوع ہے۔ باقی سائل کو جن کلماتِ اذان کے دراز کرنے سے معنی بدلنے کا خدشہ ہے، لکھ کر بھیجے، پھر اس کا حکم بیان کردیا جائے گا۔ المستدرك على الصحيحين للحاكمؒ: عن جابر بن عبد الله، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال لبلال: «إذا أذنت فترسل في أذانك، وإذا أقمت فاحدر (كتاب الصلاة، باب في فضل الصلوات الخمس، 1/ 320 رقم: 732 ط: دار الكتب العلمية) المبسوط للسرخسي: قال (ويترسل في الأذان ويحدر في الإقامة) (کتاب الصلاۃ، 1/ 131 ط: دارالمعرفة) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) ترك التلحين في الأذان، لما روي أن رجلا جاء إلى ابن عمر - رضي الله عنهما- فقال: إني أحبك في الله تعالى فقال ابن عمر: إني أبغضك في الله تعالى فقال: لم قال: لأنه بلغني أنك تغني في أذانك، يعني التلحين، أما التفخيم فلا بأس به؛ لأنه إحدى اللغتين (كتاب الصلاة، فصل بيان سنن الأذان، 1/ 150 ط: دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز