فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

میقات سے حل میں جانا باغ یا زمین کی زیارت کے لیے تو احرام باندھنا لازم نہیں

فتویٰ نمبر 130202610052 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

میقات سے حل میں جانا باغ یا زمین کی زیارت کے لیے تو احرام باندھنا لازم نہیں

سوال
: اگر کوئی شخص کوفیہ (یا کسی غیرحرم علاقے) میں سے میقات تجاوز کرکے حل میں کسی باغ یا زمین پر جانا چاہتا ہے، جبکہ اس کا مقصد مکہ داخل ہونا نہیں بلکہ صرف باغ یا زمین کا فائدہ لینا ہے، تو کیا اس کے لیے میقات پر احرام باندھنا لازم ہے؟
جواب
ایسے شخص کیلئے میقات پر احرام باندھنا لازم نہیں ہے کما فی المبسوط للسرخسي (4/ 168) (قال): وإن أراد الكوفي بستان بني عامر لحاجة فله أن يجاوز الميقات غير محرم؛ لأن وجوب الإحرام عند الميقات على من يريد دخول مكة، وهذا لا يريد دخول مكة إنما يريد البستان، وليس في تلك البقعة ما يوجب التعظيم لها فلهذا لا يلزمه الإحرام، فإذا حصل بالبستان، ثم بدا له أن يدخل مكة لحاجة له كان له أن يدخلها بغير إحرام؛ لأنه لما حصل بالبستان حلالا كان مثل أهل البستان ولأهل البستان أن يدخلوا مكة لحوائجهم من غير إحرام فكذلك هذا الرجل، وهذا هو الحيلة لمن يريد دخول مكة من أهل الآفاق بغير إحرام فقط واللہ اعلم   فقط واللہ اعلم
حوالہ: حج