فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نمازِ جنازہ کی تکرار اور اس کی امامت کے حق کی شرعی ترتیب اور احکام

فتویٰ نمبر 130202610048 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نمازِ جنازہ کی تکرار اور اس کی امامت کے حق کی شرعی ترتیب اور احکام

سوال
کیا میت پر نمازِ جنازہ ایک سے زیادہ مرتبہ ادا کی جا سکتی ہے؟ اور کیا نمازِ جنازہ نفل کے طور پر دوبارہ پڑھنا جائز ہے؟ نیز نمازِ جنازہ پڑھانے کا سب سے زیادہ حق کس کو حاصل ہے: امامِ اعظم، امامِ محلہ، والد، بیٹا یا دیگر اولیاء؟ اور اگر ایک ولی نمازِ جنازہ پڑھا دے تو کیا دوسرے اولیاء کو اس کے اعادے کا حق حاصل ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ جنازہ ایک ہی مرتبہ مشروع ہے ایک سے زائد مرتبہ جنازہ پڑھنا نفل ہے جو کہ مشروع نہیں ہے باقی اگر ولی جنازے میں شریک نہیں ہوا تھا اور جنازہ اس کی اجازت کے بغیر پڑھا گیا تو اب ولی کو اختیار ہے کہ وہ جنازہ دوبارہ دہرا سکتا ہے لیکن اگر ولی نے صراحتا یا دلالتا اجازت دے دی کہ تم پڑھ لو تو ایسی صورت میں جنازہ دوبارہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نیز اولیاء مستوی فی الدرجہ میں سے ایک نے بھی جنازہ پڑھ دیا تو کسی کے لیے دوبارہ جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ باقی جنازہ پڑھانے میں زیادہ حقدار خلیفۃ المسلمین ہیں پھر محلے کا امام ہے اور پھر ولی ہے بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 311) دار الكتب العلمية ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة لا جماعة ولا وحدانا عندنا، إلا أن يكون الذين صلوا عليها أجانب بغير أمر الأولياء، ثم حضر الولي فحينئذ له أن يعيدها الفتاوى الهندية (1/ 163) دار الفكر ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة والتنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح الفتاوى الهندية (1/ 163) ولا يعيد الولي إن صلى الإمام الأعظم ۔۔۔ أو إمام الحي۔۔۔ وإن كان غير هؤلاء له أن يعيد، كذا في الخلاصة   بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 317) من له ولاية الصلاة على الميت فذكر في الأصل أن إمام الحي أحق بالصلاة على الميت۔۔۔ لأنه رضي بإمامته في حال حياته، فيدل على الرضا به بعد مماته   الفتاوى الهندية (1/ 163) والأولياء على ترتيب العصبات الأقرب فالأقرب إلا الأب فإنه يقدم على الابن، كذا في خزانة المفتين قيل: هذا قول محمد - رحمه الله تعالى - وعندهما الابن أولى، والصحيح أنه قول الكل، كذا في التبيين، وهكذا في الغياثية وفتح القدير   الفتاوى الهندية (1/ 163، 164) وليس للأبعد أن يمنعه فإن تساوى وليان في درجة فأكبرهم سنا أولى۔۔۔ ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة   بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 317) ولو كان للميت وليان في درجة واحدة فأكبرهما سنا أولى   بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 318) وأما الأب والابن فقد ذكر في كتاب الصلاة أن الأب أحق من غيره۔۔۔ لأن للأب فضيلة على الابن وزيادة سن، والفضيلة تعتبر ترجيحا في استحقاق الإمامة، كما في سائر الصلوات بخلاف سائر الولايات فقط واللہ اعلم
حوالہ: جنائز