فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے اور لقمہ دینے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 130202610047 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نماز میں قرآن دیکھ کر پڑھنے اور لقمہ دینے کا شرعی حکم

سوال
کیا نماز میں امام کا قرآنِ مجید دیکھ کر پڑھنا درست ہے؟ اور اگر امام نماز میں مصحف دیکھ کر قراءت کرے تو کیا اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ نیز اگر کوئی سامع قرآن دیکھ کر امام کو لقمہ دے اور امام وہ لقمہ لے لے تو امام اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسی نمازوں کی قضاء لازم ہوگی؟
جواب
۱،۲۔ واضح رہے کہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، لہٰذا مذکورہ امام کا نماز میں قرآن مجید سے دیکھ کر پڑھنے سے نماز ٹوٹ گئی تھی اور اب امام اور مقتدیوں کے حنفی المسلک ہونے کی صورت میں سب کے ذمہ لازم ہے کہ جتنی مرتبہ نماز میں قرآن مجید دیکھ کر پڑها تها اتنی نمازیں قضاء کریں۔ ۳۔ سامع کا قرآن مجید دیکھ کر لقمہ دینے سےسامع کی نماز جاتی رہی اور اگر امام نے اس کا لقمہ لے لیا تھا توامام کی نماز ٹوٹ گئی، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر امام قرآن مجید دیکھ کرلقمہ دینے والے سامع کا لقمہ لے لیتا تھا تو امام اور مقتدیوں کے حنفی المسلک ہونے کی صورت میں سب کے ذمہ ان نمازوں کی قضاء لازم ہے۔ لما في الفتاوى الهندية: ويفسدها قراءته من مصحف عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى۔۔۔ (كتاب الصلاة، 1/ 101ط:دارالفكر) ولما فيه ايضا: وإن فتح غير المصلي فأخذ بفتحه تفسد كذا في منية المصلي (كتاب الصلاة، 1/ 99ط:دارالفكر) ولما في بدائع الصنائع: وإن كان مقتديا فإنه يحتاج إلى ما يحتاج إليه المنفرد ويحتاج لزيادة نية الاقتداء بالإمام لأنه ربما يلحقه الضرر بالاقتداء فتفسد صلاته بفساد صلاة الإمام (كتاب الصلاة، 1/ 128 ط: دار المعرفة – بيروت) ولما فيه ايضا: وفساد صلاة المقتدي لا تؤثر في فساد صلاة الإمام ولفساد صلاة الإمام أثر في فساد صلاة المقتدي (كتاب الصلاة، 1/ 225 ط: دار المعرفة – بيروت) ولما في المبسوط للسرخسي: فساد صلاة الإمام تفسد صلاة القوم (كتاب الصلاة، 1/ 120ط: دار المعرفة – بيروت) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نماز