فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد کے کاروبار میں کام کرنے والے بیٹوں پر قربانی کا حکم

فتویٰ نمبر 130202610043 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد کے کاروبار میں کام کرنے والے بیٹوں پر قربانی کا حکم

سوال
اگر والد کے شروع کردہ کاروبار میں بیٹے بھی کام کرتے ہوں اور کاروبار کی آمدنی والد ہی لیتا ہو، تو کیا اس آمدنی کی وجہ سے بیٹوں پر قربانی واجب ہوگی؟ یا قربانی صرف اسی صورت میں لازم ہوگی جب بیٹے ذاتی طور پر نصابِ قربانی کے مالک ہوں گے؟
جواب
واضح رہے کہ والد کے شروع کردہ کاروبار میں بیٹے کام کرنے لگ جائیں تو کاروبار اور اس کی مکمل آمدنی والد ہی کی ہوتی ہے، اور بیٹوں کی حیثیت معاون وغیرہ کی ہوتی ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ کاروبار اور اس کی آمدنی والد ہی کی ملکیت ہے، بیٹوں کی نہیں، اس لئے کاروبار کی آمدن کی وجہ سے بیٹوں پر قربانی لازم نہیں ہوگی، البتہ اگر بیٹے کاروبار کی آمدن کے علاوہ نصابِ قربانی کے مالک ہوں تو اس کی وجہ سے ان پر قربانی واجب ہوگی۔ قال ابن عابدينؒ في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له (كتاب الشركة، شركة العنان، 1/ 94 ط: دار المعرفة) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: قربانی