فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

والد کے قائم کردہ کاروبار میں ملکیت کا کی شمار ہوگی جبکہ بیٹے کام کرتے رہے ہوں اور وفات کے بعد اس کی شرعی تقسیم کا طریقہ

فتویٰ نمبر 130202610042 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

والد کے قائم کردہ کاروبار میں ملکیت کا کی شمار ہوگی جبکہ بیٹے کام کرتے رہے ہوں اور وفات کے بعد اس کی شرعی تقسیم کا طریقہ

سوال
اگر والد نے اپنا کاروبار خود شروع کیا ہو، بعد میں بیٹوں نے اس میں محنت کرکے اسے ترقی دی ہو، لیکن والد نے زندگی میں کسی بیٹے کو کاروبار کا شریک یا مالک نہ بنایا ہو، تو کیا یہ کاروبار، اس کا ساز و سامان، نقدی اور اس سے بننے والی جائیداد والد ہی کی ملکیت شمار ہوگی یا والد کے انتقال کے بعد یہ تمام ترکہ ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا؟
جواب
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں چونکہ کاروبار والدہی کا تھا، جس کو بیٹوں نے ترقی دی، اور والد نے کاروبار کا مالک بھی کسی ایک بیٹے کو نہیں بنایا تھا، لہٰذا مکمل کاروبار بمع ساز و سامان ،نقدی اور اس سے بنائی جانے والی تمام جائیدادیں والد کی ملکیت شمار ہوں گی، جو اب ان کے فوت ہوجانے کے بعد تمام ورثاءمیں ان کے شرعی حصص کے حساب سے تقسیم ہوں گی۔ لما قال ابن عابدينؒ في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وابن اكتسبا ولم يكن لهما مال فاجتمع لهما من الكسب أموال الكل للأب لأن الابن إذا كان في عياله فهو معين له (كتاب الشركة، شركة العنان، 1/ 94 ط: دار المعرفة) ولما في رد المحتار: الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له (الرد مع الدر، كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، 4/ 325 ط: دارالفكر) ولما في درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا، كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيه) إذا عمل أحد في صنعة هو وابنه الذي في عياله واكتسبا أموالا ولم يكن معلوما أن للابن مالا سابقا فكافة الكسب لذلك الشخص ولا يكون لولده حصة في الكسب بل يعد ولده معينا وليس له طلب أجر المثل (الكتاب العاشر في الشركات، الباب السادس في بيان شركة العقد، الفصل السادس في شركة العنان، المبحث الثاني بيان المسائل المتعلقة بشركة الأعمال، رقم المادة (1398) 3/ 420 ط: دار الجيل) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض