فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

گھر سے نکل جا کہنے کی صورت میں طلاق کا حکم

فتویٰ نمبر 125202610026 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

گھر سے نکل جا کہنے کی صورت میں طلاق کا حکم

سوال
ایک آدمی نے اپنی بیوی کو جھگڑے کے دوران کہا کہ"میرے گھر سے نکل جا"، اور یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے ہوں، تو شرعاً کیا حکم ہو گا؟جب کہ اس نے اس سے پہلے اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہیں دی تھی۔
جواب
میرے گھر سے نکل جا " بنیت طلاق کہا ہے تو طلاق واقع ہو گئی ہے اور اگر بغیر نیت کے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے کہا ہے تو طلاق واقع نہیں ہوئی فقط واللہ اعلم      
حوالہ: طلاق