فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

نبی علیہ السلام کی انگوٹھی

فتویٰ نمبر 125202610023 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

نبی علیہ السلام کی انگوٹھی

سوال
نبی علیہ السلام کی انگوٹھی کےپہننے کے بارے میں صحیح حوا لہ جات کی رہنمائی فرمائیں
جواب
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاندی کی انگوٹھی پہننا ثابت ہے،اور آپ سے انگوٹھی بنوانے کا سبب خود آپ سے منقول ہے کہ آپ نے اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لیے عجم کے سرداروں کی طرف خطوط بھیجنے کا سلسلہ شروع فرمایاتو آپ کے صحابہ میں سے کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ : یہ لوگ بغیر مہر کے خطوط کو قبول ہی نہیں کرتے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا، اور اس پر'' محمد رسول اللہ ''نقش ہوا تھا، بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ نقش تین سطروں پر مشتمل تھا، پہلی سطر میں محمد، دوسری سطر میں رسول، اور تیسری سطر میں لفظ ِ اللہ نقش ہو اتھا۔   دیگر بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے مہر کے لیےجو انگوٹھی بنوائی تھی اس کا نگینہ حبشی تھا، الغرض حاصل یہ ہے کہ آپ سے چاندی کی انگوٹھی پہننا ثابت ہے، اور عام لوگوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی چار ماشے سے کم وزن کی بنانے کی شرعاً اجازت ہے،اس کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا شرعاً درست نہیں ہے۔    مسلم شریف میں ہے :   "حدثنا عثمان بن أبي شيبة وعباد بن موسى. قالا: حدثنا طلحة بن يحيى (وهو الأنصاري ثم الزرقي) عن يونس، عن ابن شهاب، عن أنس بن مالك؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس خاتم فضة في يمينه. فيه فص حبشي. كان يجعل فصه مما يلي كفه."   (كتاب اللباس والزينة، باب: في خاتم الورق فصه حبشي، ج : 6، ص : 220، رقم الحدیث : 5481، ط : بشری)   سنن الترمذی میں ہے :   "حدثنا محمد بن بشار ومحمد بن يحيى وغير واحد ، قالوا: حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، قال: حدثني أبي ، عن ثمامة،عن أنس قال: "كان نقش خاتم النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة أسطر، محمد سطر ورسول سطر، والله سطر، ولم يذكر محمد بن يحيى في حديثه ثلاثة أسطر."   وفي الباب عن ابن عمر حديث أنس حديث حسن صحيح."   (‌‌أبواب اللباس، باب ما جاء في نقش الخاتم، ج:3، ص:550، رقم الحدیث:1810، ط:بشری)
حوالہ: تاریخ و سیر