فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں

فتویٰ نمبر 125202610022 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

یزید پر لعنت جائز ہے یا نہیں

سوال
کچھ دن پہلے دوست احباب کی محفل میں یزید کے بارے میں بات چل پڑی، ایک دوست یزید کو گالیاں دینے لگا، اور لعنت کرنے لگا، میں نے اس سے کہا کہ گالیاں دینے اور لعنت کرنے سے تجھے کیا مل رہا ہے؟ برائے مہربانی شرعی طور پر بتا دیں کہ یزید پر لعنت کرنا کیسا ہے؟
جواب
  خیر الفتاوی (۱/۱۳۵) میں یزید کے متعلق ایک سوال کاجواب دیا گیا ہے کہ: "نہ تو یزید پر لعنت کی جائے، اور نہ ہی برا بھلا کہا جائے، اور نہ ہی سب و شتم کیا جائے اور نہ ہی کوشش کی جائے کہ اس کو اپنے رتبہ سے بڑھا کر خلیفہ راشد قرار دیا جائے اور نہ ہی حضرت حسینؓ کو باغی کہا جائے اور نہ ہی ان کی تنقیص کی جائے جیساکہ بعض لوگ شیعہ کے خلاف ضد میں آکر کہہ دیتے ہیں، سلامتی کی بات یہ ہے کہ صحابہ ؓ و تابعین کے زمانہ میں جو اختلافات ہوئے ان کو موضوعِ بحث بنایا جائے اور نہ ہی ان میں کوئی رائے زنی کی جائے۔ فقط واللہ اعلم
حوالہ: ایمان و عقائد