فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

وقف شدہ زمین میں راستہ نکالنے اور تبادلے کا شرعی حکم

فتویٰ نمبر 125202610020 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

وقف شدہ زمین میں راستہ نکالنے اور تبادلے کا شرعی حکم

سوال
جامع مسجد امیر معاویہ ، موضع بیلے والا، جتوئی، مظفر گڑھ کے متصل زمین وقف شدہ ہے، اور اس پر مسجد کی انتظامیہ کا قبضہ بھی ہے، اب وقف کنندہ کے ورثاء یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس زمین میں سے ایک راستہ نکالیں اور وقف زمین کےدوسری جانب اپنی مملوکہ زمین کو ملا دیں اور جتنی زمین لیں گے اس سے دوگنی زمین مسجد کے محراب کی جانب دیں گے تاکہ مسجد کی توسیع ہوسکے اور اس راستہ کے اردگرمسجد بھی دکانیں بنا کرفائدہ حاصل کرسکے اور ہمیں بھی فائدہ ہوجائے۔آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
  بر تقدیر صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں جب زمین وقف ہوچکی ہے تو اب اس کو بمعاوضہ یا بلا معاوضہ تبدیل کرناجائز نہیں ہے، کیونکہ زمین وقف ہوجانے کے بعد اس کو بیچنا یا ابدال یا ھبہ جائز نہیں ہے۔ لما في الفتاوى الهندية: وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة أن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية (كتاب الوقف، 2/ 350) ولما في المبسوط للسرخسي: عن صخر بن جويرية عن نافع «أن عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - كانت له أرض تدعى ثمغا وكان نخلا نفيسا فقال عمر - رضي الله تعالى عنه - يا رسول الله إني استفدت مالا وهو عندي نفيس أفأتصدق به فقال - صلوات الله وسلامه عليه - تصدق بأصله لا يباع، ولا يوهب، ولا يورث، ولكن لينفق من ثمره» (كتاب الوقف، 12/ 31 ط: دار المعرفة) ولما في درر الحكام شرح غرر الأحكام: (فيخرجه) أي أبو يوسف الوقف عن الملك (بنفس القول) بلا حاجة إلى القضاء وغيره۔۔۔ (وبه يفتي مشايخ العراق۔۔۔ (کتاب الوقف، 2/ 134ط: دار إحياء الكتب العربية) ولما في الدر المختار: (وأما) الاستبدال ولو للمساكين آل (بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي) درر (الدر مع الرد، كتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه، 4/ 386 ط:دارالفکر) فقط واللہ اعلم
حوالہ: وقف