فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

طلاق دیتا ہوں تین بار کہنے کی صورت میں حکم

فتویٰ نمبر 125202610015 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

طلاق دیتا ہوں تین بار کہنے کی صورت میں حکم

سوال
میری شادی کو تین سال ہو گئے ہیں، شروع دن سے ہی لڑائی جھگڑے رہتے تھے لیکن میں برداشت کرتا رہا۔ ایک رات لڑائی میں بات بگڑ گئی، صبح ہوتے ہی میں اپنے سسرال گیا، میں نے اپنے سسر سے کہا کہ آپ کی بیٹی نے مجھے تنگ کر دیا ہے، سسر نے کہا اس کو گھر بھیج دو، میں نے سسر سے اپنی بیوی کی بات کرانے کی کوشش کی تو اس نے فون نہیں اٹھایا، پھر میں گھر آگیا، پھر میں نے فون کیا اپنے سسر سے بیوی کی بات کرائی، اس نے اپنی بیٹی کو کہا گھر آجاؤ، اس نے کہا کہ آؤں گی تو خلع لے کر ہی آؤں گی، سسر نے کہا تم آ جاؤ! خلع تومیں اس کا گریبان پکڑ کر دلوا دوں گا، یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا کہ آپ کو گریبان پکڑنے کی ضرورت نہیں، میں اس کو فارغ کر دوں گا،اور بیوی کو کہا کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“، ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،“ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“۔ سوال یہ ہے کہ اس حالت میں طلاق کا کیا حکم ہے؟
جواب
تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ اب نہ رجوع جائز ہے، نہ نکاح جدید کافی ہے اور نہ ہی دوبارہ آباد ہو سکتے ہیں لقوله تعالى فان طلقها فلا تحل له من بعد الاية فقط واللہ اعلم
حوالہ: طلاق