فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

بیوی کی سرکاری تنخواہ میں شوہر کا حق ہے ؟

فتویٰ نمبر 125202610014 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

بیوی کی سرکاری تنخواہ میں شوہر کا حق ہے ؟

سوال
اگر بیوی سرکاری نوکری کررہی ہو، اور خودد کما رہی ہے، تو کیا اس کی کمائی پر شوہر کا کوئی حق ہے یا نہیں؟
جواب
نان و نفقہ شوہر پر لازم ہے، عورت پر نہیں،عورت اپنی تنخواہ کی خود مالک ہے، اس میں شوہر کا حق نہیں ہے، البتہ اگر عورت اپنی خوشی سے شوہر کو دے یا اس پر خرچ کرے تو جائز ہے ۔   فتاوی شامی میں ہے :   "لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."   (كتاب الغصب، ج : 6، ص : 200، ط : سعید)   مجلة الأحكام العدلية میں ہے:   " لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."   (المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادۃ: 97/96، ص: 27، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)   فقط واللہ اعلم
حوالہ: حقوق و آدابِ معاشرت