فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ہم جنس پرستی کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟

فتویٰ نمبر 907202610012 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ہم جنس پرستی کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟

سوال
ہم جنس پرستی ہمارے مذہب میں حرام قرار دیا ہے۔ اس کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل مطلوب ہیں تاکہ غیر مسلموں کے آگے اپنا موقف بیان کر سکیں۔
جواب
الجواب حامدا ومصليا واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوزن دونوں میں شہوت کا مادہ رکھا ہے اور اس کی تسکین کا فطری طریقہ نکاح کو مقرر کیا ہے۔ اس فطری طریقہ سے ہٹ کر مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے شہوت کو پورا کرنا شرعا حرام و گناہ کا کام ہے، چاہے دونوں رضا مندی سے کریں یا جبر سے۔ اور قرآن کریم میں اس کی حرمت واضح طور پر موجود ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: > وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ ۖ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ (٢٨) اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ وَتَاْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ ؕ۔ [العنكبوت: 28،29) ترجمہ: "اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا، جبکہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے  دنیا جہاں والوں میں سے نے نہیں کیا، تم مردوں سے بد فعلی کرتے ہو وہ بے حیائی کا کام ہے۔ حضرت انس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جب میری امت چھ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی تو ان پر تباہی نازل ہو گی۔ جب ان میں باہمی لعن طعن عام ہو جائے، مرد ریشمی لباس پہنے لگیں، گانے بجانے اور ناچنے والی عور تیں رکھنے لگیں، شرابیں پینے لگیں اور مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے جنسی تسکین پر کفایت کرنے لگیں۔ إذا استحلت أمتي ستا فعليهم الدمار: إذا ظهر فيهم التلاعن، وشربوا الخمور، ولبسوا الحرير، واتخذوا القيان، واكتفى الرجال بالرجال والنساء بالنساء (المعجم الأوسط، رقم الحدیث: 1086، 18/2) خلاصہ یہ ہے کہ مرد کا مرد اور عورت کا عورت سے جنسی تسکین حاصل کرنا شرعا حرام ہے۔ اور اسلام میں اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں۔ فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح