فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

مضارب کا اصل رقم او رنفع دینے سے ٹال مٹول کرنا

فتویٰ نمبر 907202610011 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

مضارب کا اصل رقم او رنفع دینے سے ٹال مٹول کرنا

سوال
میرا بھائی فوت ہوگیا تھا میں نے اس کے یتیم بچوں کی رقم پانچ لاکھ روپے کاروبار کیلئے ایک شخص کو دی، اور وہ میرے ساتھ حصہ پر معاملہ کر رہا تھا میں نے اسے کہا کہ مجھے حساب کتاب کے جھنجٹ میں نہیں پڑنا لہٰذا تم مجھے دس ہزار روپے ماہانہ نفع دیدیا کرنا ۔ شروع شروع میں اس نے نفع دییا پھر ٹال مٹو ل کرنے لگ گیا ،جبکہ معاہدہ تین ماہ کا ہوا تھا، اب تک اس نے نفع سمیت صرف اس نے تین لاکھ واپس کیے ہیں دو لاکھ اب بھی اس کے پاس ہیں، اب تین سال ہوگئے ہیں ، رقم اس کے پاس ہے نفع بھی نہیں دیا ۔ اس کے بارے میں حکم شرعی سے آگاہ کریں۔
جواب
الجواب حامدًا و مصلیًا صورتِ مسئولہ میں فریقین کے درمیان جو معاہدہ ہو اہے وہ اصولی طور پر شرعاً ناجائز ہے ، نفع نقصان کے معاہدہ میں نفع  کو متعین کرنا درست نہیں ، نفع کو شراکت کی بنیاد پر تقسیم کرنا ضروری ہوتا ہے۔  چنانچہ ہندیہ میں ہے:  " وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع."(كتاب الشركة، الباب الأوّل في بيان أنواع الشركة، ج:2، ص:302، ط:رشيديه) لہٰذا فریقین متعین نفع کی شرط کو ختم کر کے جن تین مہینوں کا معاہدہ تھا ، ان تین مہینوں کا مکمل حساب کیا جائے ، بنیادی لاگت اور اخراجات وغیرہ نکال کر حقیقی نفع کو تقسیم کرلیں ۔ اس سلسلہ میں چند غیر جانبدار،دیانتدار کاروباری  معاملات سے واقف افراد کو فیصل بنا کر ان کے ذریعے تمام حساب کتاب چیک کرا کے فیصلہ کرالیا جائے۔  چونکہ یتیم بچوں کی رقم ہے اور یتیم کا مال ہڑپ کرنے والوں  سے متعلق اللہ جل شانہ کا ارشاد ہےکہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ کو جہنم کے انگاروں سے بھر رہے ہیں۔  إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا (10)[النساء: 9 - 11] اس لیے شخص مذکورکو چاہیے کہ  وہ اپنی قبر اور اخروی حساب کتاب کو سامنے رکھ کر دیانت داری سے حساب دے اور فیصلہ کنندگان بھی بغیر کسی کی طرفداری کے حق کے مطابق فیصلہ کریں۔ اگر شخص مذکور نے یتیم بچوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے اور ان کا مال کھایا ہے تو ان کو واپس دلائیں۔ واضح رہے کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے بعد جو نقصان ہوا اس کی ذمہ داری بچوں پر ڈالنا درست نہیں۔ فقط واللہ اعلم  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: مضاربت