فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

کاروبار ی لوگوں کا مسجد میں سونا

فتویٰ نمبر 907202610008 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

کاروبار ی لوگوں کا مسجد میں سونا

سوال
دو افراد ذریعہ معاش کاروبار کی غرض سے دوسرے شہر سے آئے ہوئے ہیں ، کام کاروبار سے فراغت کے بعد رات کو وہ لوگ مسجد آ کے سو جاتے ہیں ، صبح نماز فجر کےلئے اٹھتے ہیں ، نماز پڑھنے کے بعد پھر مسجد میں ہی سو جاتے ہیں۔ ملتان سے آجانے کے بعد ان کا مستقل قیام مسجد میں ہے۔دوران قیام وہ پنکھے،لائٹ،موبائل چارجنگ بیت الخلا، نہانے کے لئے باتھ روم وغیرہ استعمال کرتے ہیں اور بعض اوقات کپڑے تک مسجد میں دھوتے ہیں۔کیا ان معاش کے لئے آئے ہوئے کاروباری حضرات کا مسجد میں کافی عرصے سے اس طرح قیام کرنا شریعت کی روح سے جائز اور صحیح ہے؟واضع رہے کہ رہائش کی مد میں وہ مسجد کو کوئی کرایہ،چندہ یا کوئی مالی معاونت نہیں کرتے۔ رہنمائی فرمائیں کہ اس سلسلہ میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے ۔
جواب
مسجد اللہ کا گھر ہے ،  جس کی وضع ذکرِ الہٰی  اور عبادات  کیلئے ہے، صرف مسافر اور  معتکف کو شرائط کی پابندی کرتے ہوئے مسجد میں سونے کی اجازت ہے ، یا مسجد سے متعلقہ امور کی ذمہ داریاں انجام دینے والے عملہ کو ضرورت کے وقت اجازت دی جاسکتی ہے ۔ ان کے علاوہ کو مسجد میں سونے کی اجازت نہیں ہے۔ مذکورہ افراد چونکہ کاروبار کے سلسلہ میں اس شہر میں مقیم ہیں ، اس لیےشرعاً یہ مسافر نہ رہے۔ ان کو مسجد میں سونے یا مسجد کی اشیاء استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔  ويكره ‌النوم والأكل فيه لغير المعتكف، وإذا أراد أن يفعل ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيه ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء، كذا في السراجية. ولا بأس للغريب ولصاحب الدار أن ينام في المسجد في الصحيح من المذهب، والأحسن أن يتورع فلا ينام، كذا في خزانة الفتاوى." (كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، 5/ 321، ط: رشيدیہ ) الحاصل : مذکورہ افراد کیلئے مسجد میں سونا جائز نہیں ۔ مسجد کی انتظامیہ بھی اجازت دینے کی مجاز نہیں۔  فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: حظر و اباحت