فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

پہلے نکاح کے بعد طلاق لئے بغير زبردستی کرائے گئے دوسرے نکاح كا حكم

فتویٰ نمبر 727202610396 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

پہلے نکاح کے بعد طلاق لئے بغير زبردستی کرائے گئے دوسرے نکاح كا حكم

سوال
ریحانہ نے اپنا نکاح از خود کفو میں ایک آدمی سے کر دیا۔ بعد میں والدین کو معلوم ہوا تو انھوں نے اس کو نکاح کسی اور سے زبردستی کرا دیا۔ آیا اب کونسا نکاح معتبر ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ منکوحہ کا کسی اور نکاح کرنا حرام ہے اور شریعت کا مزاق اڑانا ہے، جس پر لڑکی اور اسکی والدہ اور جس جس کو اس پہلے نکاح کا علم تھا اور وہ دوسرے نکاح پرخاموش رہے ، خوب خوب توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔  باقی پہلا نکاح کفو میں ہونے کی وجہ سے منعقد ہوچکا تھا، لہٰذا دوسرا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، بلکہ زنا شمار ہوگا۔   لما في فتاوى قاضيخان:  ولا يجوز نكاح منكوحة الغير و معتدة الغير عند الكل  (الخانية علیٰ الهندية، كتاب النكاح، 1/ 180 ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: نکاح