فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، ایک بیٹی ، ایک بھائی ، ایک بہن اور ایک لے پالک بیٹا ہو تو ترکہ کی تقسیم کا طریقہ

فتویٰ نمبر 726202610394 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، ایک بیٹی ، ایک بھائی ، ایک بہن اور ایک لے پالک بیٹا ہو تو ترکہ کی تقسیم کا طریقہ

سوال
محمد حیدر فوت ہوگئے ہیں۔ ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، ایک بیٹی ، ایک بھائی ، ایک بہن اور ایک لے پالک بیٹا ہے۔وراثت شرعاً کیسے تقسیم ہوگی؟
جواب
 برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد حیدر كا کل ترکہ 72 حصے ہو کر بیوہ کو 9  حصے، والدہ کو 16 حصے، ایک بیٹی کو24 حصے، 1 بہن کو 5 حصے اور 1 بھائی کو 10 حصے ملیں گے۔ لے پالک بیٹا مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گا؛کیونکہ انسان وراثت کا حقدار نسب یا زوجیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔  لما في الفتاوى الهندية:  ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء  (کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض