ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، ایک بیٹی ، ایک بھائی ، ایک بہن اور ایک لے پالک بیٹا ہو تو ترکہ کی تقسیم کا طریقہ
سوال
محمد حیدر فوت ہوگئے ہیں۔ ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، ایک بیٹی ، ایک بھائی ، ایک بہن اور ایک لے پالک بیٹا ہے۔وراثت شرعاً کیسے تقسیم ہوگی؟
جواب
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد حیدر كا کل ترکہ 72 حصے ہو کر بیوہ کو 9 حصے، والدہ کو 16 حصے، ایک بیٹی کو24 حصے، 1 بہن کو 5 حصے اور 1 بھائی کو 10 حصے ملیں گے۔
لے پالک بیٹا مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گا؛کیونکہ انسان وراثت کا حقدار نسب یا زوجیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔
لما في الفتاوى الهندية:
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء
(کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض