فتویٰ لوڈ ہو رہا ہے...
فتویٰ آن لائن، ملتان پاکستان علم، احتیاط اور اعتماد کے ساتھ دینی رہنمائی
مستند دینی رہنمائی، آسان اردو میں

آپ کے دینی سوالات کے واضح اور معتبر جوابات

روزمرہ زندگی، عبادات اور معاملات سے متعلق فتاویٰ تلاش کریں یا اپنا سوال دارالافتاء تک پہنچائیں۔

روزمرہ ضرورت کے مفید ٹولز

اسلامی کیلکولیٹرز

ابتدائی حساب اور رہنمائی کے لیے سادہ، تیز اور اردو میں دستیاب کیلکولیٹرز۔

01

عدت کیلکولیٹر

تاریخ منتخب کریں، یہ کیلکولیٹر 130 دن شمار کر کے بتائے گا کہ عدت مکمل ہوئی یا باقی ہے۔

عدت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
02

ایام کیلکولیٹر

گزشتہ اور موجودہ ایام کی تاریخیں درج کریں۔

ایام کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
03

تقسیمِ وراثت کیلکولیٹر

یہ بنیادی حساب ہے۔ مکمل شرعی تقسیم کے لیے دارالافتاء سے تصدیق ضروری ہے۔

وراثت کیلکولیٹر کا الگ صفحہ
فتویٰ آن لائن

ورثاء میں 1 بیوہ، 1 بیٹا، 3 بیٹیاں ہوں تو تقسیم کا طریقہ، نیز ایک بیٹی زندگی میں وفات پاگئی تو اس کا شوہر اور اولاد ترکہ سے محروم رہیں گے

فتویٰ نمبر 726202610393 — سوال، جواب اور متعلقہ حوالہ

→ واپس جائیں

ورثاء میں 1 بیوہ، 1 بیٹا، 3 بیٹیاں ہوں تو تقسیم کا طریقہ، نیز ایک بیٹی زندگی میں وفات پاگئی تو اس کا شوہر اور اولاد ترکہ سے محروم رہیں گے

سوال
اقبال حسین ولد حیدر بخش کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوہ (صغراں مائی)، ایک بیٹا(تنویر)، چار بیٹیاں (مہناز، شہناز، ریشم، سميرا) ہیں، جن میں سے ایک بیٹی(مہناز) کا انتقال والد مرحوم سے پہلے ہوگیا تھا۔اس کے ورثاء میں شوہر اور تین بیٹیاں ہیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں ۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب
مسئلہ40/8  مضروب5 اقبال حسین(متوفی) میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  بیوہ  بیٹا  بیٹی  بیٹی  بیٹی  صغراں مائی  تنویر  شہناز  ریشم  سميرا  7 7 7 14 5   بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ اقبال حسين(مرحوم) کاکل ترکہ 40 حصے ہو کر صغراں مائی کو 5 حصے، تنویر کو 14 حصے، شہناز، ریشم، سمیرا میں سے ہر ایک کو 7 حصے ملیں گے۔   مہناز چونکہ اقبال(والد) کی زندگی میں ہی فوت ہوگئی تھی، اسلئے وہ اور اس کے ورثاء اقبال (مرحوم) کے ترکہ سے شرعاً محروم ہوں گے۔  لما في المبسوط للسرخسي:  لأن بقاء الوارث بعد موت المورث شرط لوراثته عنه فإن الوراثة خلافة، والحي يخلف الميت، فأما الميت فلا يخلف الميت  (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)  ولما في رد المحتار:  (قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث  (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر) فقط واللہ اعلم فقط واللہ اعلم
حوالہ: فرائض
ٹیگز:
معاملات